• معاشرت >> تعلیم و تربیت

    سوال نمبر: 605864

    عنوان:

    مکتب میں یسرنا القرآن پڑھانا کیسا ہے

    سوال:

    امید ہے کہ مزاج گرامی صحت و عافیت ہوں گے۔ مفتی صاحب! مکاتب میں بچوں کو جو یسرنا القرآن پڑھایا جاتا ہے، ہم نے سنا کہ یہ رسالہ کسی قادیانی کا لکھا ہوا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اس کا حکم کیا ہوگا، برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 605864

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:975-769/N=1/1443

     جی ہاں! قاعدہ یسرنا القرآن، پیر منظور محمد نامی ایک مرزائی کا لکھا ہوا ہے اورقرآن پاک کی تعلیم کے لیے کوئی بھی قاعدہ اولین و اہم ترین بنیادکی حیثیت رکھتا ہے اور قرآن پاک کی نسبت سے قاعدہ کی بھی پڑھنے،پڑھانے والے اور بچوں کے ماں باپ کے دلوں میں ایک خاص عظمت واحترام ہوتاہے اور قاعدہ کی نسبت سے لازمی طور پر مصنف کی بھی عظمت ہوتی ہے ؛ اس لیے قاعدہ یسرنا القرآن پڑھنے پڑھانے سے احتراز کرنا چاہیے، ہمارے اکابر میں فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی نور اللہ مرقدہ نے مختلف مفاسد بیان فرماکر قاعدہ یسرنا القرآن سے منع فرمایا ہے (فتاوی محمودیہ، ما یتعلق بالقادیانیة،۲: ۱۳۲، ۱۳۳، جواب سوال:۴۸۳، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل )۔

    مارکیٹ میں قاری محمد اسماعیل کی طرف منسوب ایک قاعدہ یسرنا القرآن بھی دستیاب ہے، یہ قاری اسماعیل صاحب کون ہیں؟ معلوم نہیں؛ البتہ مرزائی کے قاعدہ یسرنا القرآن کے اخیر میں ”تازہ شہادتیں“ کے عنوان کے ذیل میں نمبر: ۷میں پٹنہ کے ایک صاحب سے حوالہ سے نقل کیا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے اسی قاعدہ یسرنا القرآن میں کچھ حذف وترمیم کرکے اسی نام سے قاعدہ شایع کیا ہے (قاعدہ یسرنا القرآن، ص: ۶۲، ناشر: نظارت نشر واشاعت صدر انجمن احمدیہ، قادیان، ایڈیشن: ۱۹۹۹ء)؛ لہٰذا جب یہ قاعدہ بھی اُسی کی نقل ہے تو اس سے بھی احتراز چاہیے اور اہل حق حضرات کے مرتب کردہ جو قاعدے ہیں، اُن سے بچوں کی تعلیم ہونی چاہیے، جن میں ہردوئی والا ” نورانی قاعدہ“نہایت مفید اور مقبول خاص وعام ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند