• معاشرت >> تعلیم و تربیت

    سوال نمبر: 51844

    عنوان: بغرض تربيت اولاد كو مارنے کے حكم کے بارے

    سوال: بالغ اور نابالغ اولاد کو بغرض تربیت استاد یا دوسرے کو ئی شخص کے لئے ہاتھ یا لاٹھی وغیرہ سے مارنا جائز یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو کس قدر ؟ اور کہاں کہاں ؟ تفصیل مطلوب ہے اور اگر جائز نہیں تو اولاد کے لیے بغرض تربیت کیا صورت اختیار کیا جائی ؟ اور اس صورت میں حدیث " لا ترفع عنہم عصاک ادبا " کا کیا جواب ہوکا ؟ بالتفصیل مع الدلائل جاننا چاہتا ہوں امید کہ جلدی سے فتوی ای میل مین ارسال کرے -

    جواب نمبر: 51844

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 977-805/H=7/1435-U اولیاء کو اور اساتذہ کو (اولیاء کی اجازت سے) بضرورت علمی واخلاقی تربیت مارنا اور سزا دینا شرعاً درست ہے، البتہ چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے: (۱) اس طرح کی سزا شرعاً ممنوع ہو اس سے مقصود تربیت ہو غصہ یا جذبہٴ انتقام کی تسکین نہ ہو۔ (۳) مدرسے کے ضابطے اورعرف کے لحاظ سے استاذ اس طرح کی تادیب کے مجاز ہوں۔ (۴) بچوں کی طبیعت اس کی متحمل ہو۔ (۵) سر اور چہرہ پر نہ مارا جائے۔ (۶) غلطی کی نوعیت کے اعتبار سے سزا کی تعیین کرلی جائے تاکہ استاذ پر عدم برابری کا الزام نہ آئے۔ پس بقدر ضرورت بچوں کو ایک، دو، تین چپت تحمل کے موافق گردن اور کمر پر ماردیا جائے، اور بالغ کو چھڑی سے بھی مارسکتے ہیں، بشرطیکہ بدن پر اثر نہ پڑے اور ہڈی ٹوٹنے یا زخم لگنے کی نوبت نہ آئے۔ شامی میں ہے (وإن وجب ضرب ابن عشر علیہا بید لا بخشبة) أي لولا یجاوز الثلاث وکذلک المعلم لیس لہ أن یجاوزہا قال علیہ السلاة لمرداس المعلم: إیاک أن تضرب فوق الثلاث فإنک إذا ضرب فوق الثلاث اقتص اللہ منک․ (شامي: ۴۶۶ کتاب الصلاة) وعن حکیم بن معاویة القشیري عن أبیہ قال: قلت یا رسول اللہ ما حق الزوجة أحدنا علیہ قال أن تطعمہا إذا أطعمت وتکسوہا إذا اکتسیت ولا تضرب الوجہ ولا تقبح ولا تہجر إلا في البیت (مشکاة: ۲۸۱، کتاب النکاح) ”لا ترفع عنہم عصاک أدبًا“ کا مقصد بھی یہی ہے کہ والدین کا اولاد پر رعب ہو اور بوقت ضرورت بقدر ضرورت سزا سے چشم پوشی نہ کی جائے۔ (مستفاد: مرقاة ۱/۱۳۳)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند