• معاشرت >> تعلیم و تربیت

    سوال نمبر: 153946

    عنوان: کس حد تک استاد طالب علم مار سکتے ہیں؟

    سوال: کس حد تک استاد طالب علم مار سکتے ہیں؟یا والد بچہ کو اور مرد عورت کو؟

    جواب نمبر: 153946

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1341-1261/B=12/1438

    محض تنبیہ کے لیے پیٹھ پر ہاتھ سے ایک آدھ مرتبہ ماردے تو یہاں تک گنجائش ہے، چہرہ پر ، سرپر مارنے سے احتیاط کرے، ایسی مار جس سے بدھی اچھل آئے یا خون نکل آئے قطعاً جائز نہیں۔ تادیب جبری سے تعلیم میں استاد کامیاب نہیں ہوتا، ہاں اگر پڑھنے والوں کی نفسیات سے واقف کار ہوجائے اور پھر پڑھائے تو وہ تعلیم بہت نتیجہ خیز اور بارآور ہوتی ہے۔ اپنا رعب قائم رکھے اور نفسیات کا ماہر ہو تو وہی پڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح باپ کا بچہ کے ساتھ اور مرد کا عورت کے ساتھ معاملہ ہونا چاہیے۔ کسی کو تکلیف دہ مار نہ مارنی چاہیے۔ اپنا رعب باقی رکھے تو صرف ڈانٹ دینا کافی ہوگا۔

     


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند