• معاشرت >> تعلیم و تربیت

    سوال نمبر: 149879

    عنوان: بچوں کی تعلیم اور شادی بیاہ کے اخراجات كس پر ہیں؟

    سوال: میرے دوست کی شادی ہوئے ۲۳ سال ہوگئے ہیں، سبھی بچوں کی عمر ۱۸ سال سے زیادہ ہے اور کالج میں پڑھ رہے ہیں، میرا دوست 1990ء میں سعودی چلا گیا تھا، وہ پیشہ سے انجینئر ہے، اس نے اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو سعودی بلایا، شوہر کے پاس جانے کے بعد بیوی ریاض میں کام کرنے لگی اور تمام کمائی سے ہندوستان میں جائداد خریدی گئی، 2012ء کو وہ ہندوستان واپس آگئے ،شوہر اپنے سسرال والوں کے ساتھ مل کر بزنس کرنے کا معاہدہ کیا ،مگر بزنس سے فائدہ نہیں ہورہاہے، اب بیوی کہہ رہی ہے کہ آپ محنت نہیں کررہے ہیں اور میں کرائے کی آمدنی سے گھر کیوں چلاؤں(تمام گھر بیوی کے نام ہیں)، وہ اپنے شوہر کی بات کی پرواہ نہیں کرتی ہے اور شوہر کی پچھلی تمام کوششوں کی قدر نہیں کررہی ہے، اس ازدواجی تنازع میں شوہر کے لیے مشکل ہوگئی ہے، مستقبل کے پلان کے بارے میں بیوی کا ارادہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو جو وہ کررہی ہے ثابت کرے گی ، بیوی کا کہنا ہے کہ وہ ذمہ داریوں کو پوری کرنے میں شریک نہیں ہوں گی، اس طرح کی بات دو مرتبہ سامنے آچکی ہے، بیوی کو چونکہ مستقل کرائے کی آمدنی ملتی ہے، تو کیا شوہر کے لییاخراجات،بچوں کی شادی، تعلیم وغیرہ کا خرچ اٹھانا ضروری ہے؟ہم دونوں شریعت کے مطابق کس طرح خوشی سے رہ سکتے ہیں؟ ہم دونوں کی عمر ۵۳ سال ہے۔

    جواب نمبر: 149879

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 841-807/M=7/1438

    بچوں کی تعلیم اور شادی بیاہ کے اخراجات شوہر (باپ) کے ذمہ ہیں، صورت مسئولہ میں اگر یہ بات درست ہے کہ بیوی، شوہر کی بات کی پرواہ نہیں کرتی ہے اور ان کی پچھلی کوششوں کی قدر نہیں کرتی ہے بیوی کا یہ رویہ غلط ہے، بیوی پر شوہر کی اطاعت لازم ہے اور بیوی کو چاہیے کہ شوہر کو اپنے قول وعمل سے خوش رکھے، شوہر کے مقام ومربتے کا خیال رکھے، ان کا ہرممکن تعاون کرے اور ساتھ دے اور شوہر کو چاہیے کہ اپنی جانب سے محنت وعمل میں کوتاہی نہ کرے، بیوی بچوں کے حقوق ادا کرتا رہے جب زوجین میں سے ہرایک دوسرے کا خیال کرے گا تو زندگی خوش گوار گذرے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند