• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 68042

    عنوان: مفتی زرولی خان كى سلسلے میں

    سوال: مفتیان کرام کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، دنیا میں مختلف عقائد و نظریات کے علماء کرام موجود ہیں لیکن مفتی زرولی خان کراچی پاکستان مسلک دیوبند کے دنیا میں سب سے بڑے علماء میں سے ایک ہونے کا دعوا کرتے ہیں، پچھلے تقریباً دو سال سے انکی بذریعہ انٹرنیٹ بہت تشہیر کی جا رہی ہے ، انکی ویب سائٹ ahsanululoom.com اور کچھ بیانات سے تخریج کر چند باتیں اور مسائل اس تحریر میں یکجا کئے ہیں. زکوٰت کے مسائل میں لکھتے ہیں؛ (۱) سارا سال صاحب نصاب رہنا ضروری ہے ۔ ایک دفعہ بھی اگر نصاب سے مال کم ہوا تو نصاب ٹوٹ جائے گا۔ اور جب دوبارہ صاحب نصاب ہوگا سال اس دن سے شروع ہوگا۔ (۲) ایک شخص کے پاس ۴ تولہ سونا اور ۵ تولہ چاندی ہے ۔ اس کے علاوہ نقدی نہیں ہے ۔ دونوں نصاب کو نہیں پہنچ رہے ۔ اور علماء نے دونوں کو ملا کر چاندی کے نصاب پر فقراء کی سہولت کے لئے حیلہ لکھا ہے ۔ مگر کیا وہ شخص چاہے تو اس حیلہ کو نہ کرے او کہے میرے پاس دونوں نصاب کو نہیں پہنچتے ۔۔ کیا اس کا عمل درست ہے ؟جواب؛ جی یہ بات درست ہے ۔ اس شخص پر زکوة نہیں ہے ۔ اور تراویح کے بارے میں نمبر (۳) 8 رکعات تراویح اور 12 رکعات تہجد ہے اور اسکے بعد 3 رکعات وتر ہے ۔ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں, وتر کے بعد تہجد پڑھنے والا گنہگار ہے . ایک حدیث پر بہت زور دیتے ہیں کہ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں, اور کہتے ہیں کہ قولی حدیث نص قطعی ہے اس کے مقابلے میں فعلی حدیث کی کوئی وقعت نہیں۔ (۴) شش عید کے روزے رکھنا بدعت ہے ۔ (۵) بائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا نا جائز ہے ۔ (۶) علماء کرام کا تبلیغی جماعت میں جانا حدیث کی توہین ہے ۔ (۷) پیر زلفقار احمد نقبندی کی تحقیر، نمبر 8: نہایت متکبرانا انداز میں بعض علماء کی آواز بنا بنا کر انکی نقل اتارنا، نمبر 9: تمام علماء کرام جو تبلیغی جماعت سے منسلک ہیں انکی تحقیر کرنا انکو گھٹیا درجے کا بد ترین عالم کہنا، نمبر 10: مولانا طارق جمیل صاحب کو کافر کہنا۔ گذارش یہ ہے کے اہل سنت و الجماعت علماء احناف دیوبند مذکورہ بالا باتوں اور مسائل میں سے کتنی باتوں کے قائل ہیں یا یہ صرف علماء دیوبند پر بہتان ہے ۔

    جواب نمبر: 68042

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1304-1304/N=12/1437 (۱): سارا سال نصاب کا مکمل رہنا ضروری نہیں ، صرف سال کے آغاز میں اور سال کے اختتام پر نصاب کا مکمل رہنا کافی ہے، البتہ نصاب کا کچھ نہ کچھ جزو وحصہ باقی رہنا ضروری ہے، اگر نصاب کا کچھ بھی حصہ باقی نہیں رہا تو سال کا حساب ختم ہوجائے گا اور آئندہ نصاب مکمل ہونے کے بعد ہی دوبارہ سال کا حساب شروع ہوگا، ، اور مولانا زرولی خاں صاحب کی جو رائے ہے، یہ امام زفر کا قول ہے، جس پر فتوی نہیں ۔وشرط کمال النصاب … في طرفي الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتھاء للوجوب فلا یضر نقصانہ بینھما، فلو ھلک کلہ بطل الحول (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳: ۲۳۳، ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”فلو ھلک کلہ“: أي: في أثناء الحول بطل الحول، حتی لو استفاد فیہ غیرہ استأنف لہ حولاً جدیداً (رد المحتار)،ونقصان النصاب فی الحول لا یضر إن کمل في طرفیہ، أي: إذا کان النصاب کاملاً فی ابتداء الحول وانتھائہ فنقصانہ فیما بین ذلک لا یسقط الزکاة،…… إلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الذي انعقد علیہ الحول لیضم المستفاد إلیہ؛ لأن ھلاک الکل یبطل انعقاد الحول؛ إذ لا یمکن اعتبارہ بدون المال (تبیین الحقائق۱: ۲۸۰، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان، باکستان)، قولہ:”إلاإلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الخ “:حتی لو بقي درھم أو فلس منہ ثم استفاد قبل فراغ الحول حتی تم علی نصاب زکاہ اھ، فتح (حاشیة الشلبي علی التبیین)۔ (۲): اگر کسی کے پاس سونا، چاندی دونوں ہوں اور دونوں نصاب سے کم ہوں تو ایسی صورت میں اگر سونے کو چاندی سے یا چاندی کو سونے سے ملانے میں قیمت کے اعتبار سے کوئی ایک نصاب مکمل ہوجاتا ہے تو زکوة واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔ ویضم الذھب إلی الفضة وعکسہ بجامع الثمنیة قیمة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳: ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”قولہ:”ویضم الخ“:أي: عند الاجتماع …وفی البدائع: ما ذکر من وجوب الضم إذا لم یکن کل واحد منھما نصاباً بأن کان أقل الخ (رد المحتار)۔ (۳):بیس رکعات تراویح کے موضوع پر متعدد کتابچے اور رسائل لکھے جاچکے ہیں اور ان میں سب دلائل اور تفصیلات جمع کردی گئی ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ بیس رکعات تراویح کا مسئلہ دور صحابہ سے اجماعی ہے ، ائمہ اربعہ میں سے کوئی بیس رکعت سے کم تراویح کا قائل نہیں، تفصیل کے لیے فتاوی رحیمیہ اور رکعات تراویح موٴلفہ: محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی ، وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے ، وھي عشرون رکعة بإجماع الصحابة رضي اللہ عنھم بعشر تسلیمات الخ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي، ص ۴۱۴، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔ اور تہجد کی نماز تراویح میں شامل نہیں ہے ، وہ تراویح سے الگ ہے جیسا کہ حضرت عمر کے ارشاد گرامی: والتي ینامون عنھا أفضل من التي یقومون بھا(صحیح بخاری شریف)سے معلوم ہوتا ہے۔اور نماز وتر کے بعد جو دو رکعت نفل ہیں، ان کے متعلق علما کا اختلاف ہے، صاحب احسن الفتاوی کی رائے یہ ہے کہ وتر کے بعد دو رکعت نفل بہتر نہیں اور اگر کوئی پڑھے تو ممنوع بھی نہیں ؛ بلکہ مباح ہے؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چند مرتبہ ان کا پڑھنا ثابت ہے(احسن الفتاوی ۳: ۵۰۳،۵۰۶، مطبوعہ: ایچ، ایم سعید کمپنی، کراچی) ۔ اور فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:وتر کے بعد نوافل کا پڑھنا جائز ہے ، چناں چہ بعض صحابہ جو عشا کے بعد وتر پڑھ لیتے تھے وہ آخر رات میں تہجد پڑھتے تھے تو معلوم ہوا کہ وتر کے بعد نوافل ممنوع نہیں ہیں، نیز آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد وتر کے دو رکعت نفل پڑھی ہیں(۴: ۲۲۰، سوال: ۱۷۱۸، مسائل سنن غیر موٴکدہ، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند) جیسا کہ مسلم شریف(۱: ۲۵۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) اور نسائی شریف (۱: ۲۵۳، مطبوعہ؛ مکتبہ اشرفیہ دیوبند)کی روایت میں صراحت ہے، امام نووی نے اسے چند مرتبہ پر محمول کیا ہے اور دوام ومواظبت کی نفی فرمائی ہے(نووی علی شرح مسلم۱: ۲۵۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔ اور علامہ ابن القیم نے زاد المعاد میں وتر کے بعد کی دو نفلوں کو وتر کا تتمہ اور تکملہ قرار دیا ہے ؛ کیوں کہ وتر مستقل نماز ہے، گویا یہ وتر کے بعد کی سنتیں ہیں جیسے مغرب کے بعد دو سنتیں ہیں، والصواب أن یقال إن ھاتین الرکعتین تجري مجری السنة وتکمیل الوتر فإن الوتر عبادة مستقلة ولا سیما إن قیل بوجوبہ فتجری الرکعتان بعدہ مجری سنة المغرب من المغرب فإنھا وتر النھار والرکعتان بعدھا تکمیل لھا فکذلک الرکعتان بعد وتر اللیل(زاد المعاد۱: ۸۶ بحوالہ: فتاوی محمودیہ ۷: ۲۲۶، مطبوعہ: ادارہٴ صدیق ڈابھیل)،اور ہمارے اکابر علائے دیوبند نے اس پر بحث فرمائی ہے کہ وتر کے بعد کی دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھی جائیں یا کھڑے ہوکر ؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا بیٹھ کر پڑھنا ثابت ہے، تو اکثر اکابر کی رائے یہ ہے کہ ان کا کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے، والمحققون من أکابرنا علی أن إتیانھما قیاماً أفضل (اعلاء السنن ۶: ۸۲، بحوالہ: فتاوی محمودیہ ۷: ۲۲۶۔نیز فتاوی رشیدیہ ص۳۶۵، مطبوعہ: گلستاں کتاب گھر دیوبند ، امداد الفتاوی ۱: ۴۵۹- ۴۶۱، سوال: ۳۹۱- ۳۹۳، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند، فتاوی دار العلوم دیوبند ۴: ۲۱۸،۲۳۱، سوال: ۱۷۱۵،۱۷۴۱، فتاوی محمودیہ ۷:۲۲۱ -۲۳۲، سوال: ۳۳۳۲- ۳۳۴۰، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل، کفایت المفتی جدید ۳: ۳۱۸، جواب: ۵۱۷، ۵۱۸، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی اور آپ کے مسائل اور ان کا حل قدیم ۲: ۳۳۵، ۳۳۶ وغیرہ بھی دیکھیں) ، اس سے بھی دلالتاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ وتر کے بعد دو نفلیں ہمارے اکابر علمائے دیوبند کے نزدیک ممنوع نہیں؛ بلکہ ثابت ہیں ، البتہ دوام ومواظبت کا ثبوت نہیں ہے؛ اس لیے یہ سنت موٴکدہ کے درجے میں نہ ہوں گی، اگر کوئی پڑھ لے تو اچھی بات ہے اور اگر نہ پڑھے تو کچھ گناہ نہیں۔ (۴): شش عید کے روزوں کو بدعت کہنا جہالت اورلاعلمی کی دلیل ہے، یہ روزے احناف کے نزدیک صحیح ومفتی بہ قول کے مطابق مستحب وسنت ہیں، البتہ اگر کوئی شخص یہ روزے عید الفطر کا دن ملاکر رکھتا ہے، یعنی: عید الفطر اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھتا ہے تو یہ مکروہ ہے ؛ کیوں کہ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، اس سلسلہ میں چند دلائل اور حوالجات حسب ذیل ہیں: الف:صحیح مسلم میں حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پوری زندگی روزہ رکھنے کے برابر ہے ، عن أبي أیوب الأنصاري أنہ حدثہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان ثم أتبعہ ستاً من شوال کان کصیام الدھر، رواہ مسلم (مشکاة المصابیح، کتاب الصوم ، باب صیام التطوع، ص ۱۷۹، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)،البتہ حضرت ثوبان اور حضرت جابربن عبد اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ ایک سال روزے کے برابر ہے(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۹۱ - ۳۹۳، مطبوعہ:دار النوادر، سوریة، لبنان، الکویت)۔ ب:صاحب بدائع علامہ کاسانی نے فرمایا: اتباع مکروہ یہ ہے کہ آدمی عید الفطر کے دن روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھے، اور اگر کسی نے عید الفطر کے دن افطار کیا ، پھر اس کے بعد چھ دن روزے رکھا تو یہ مکروہ نہیں؛ بلکہ مستحب وسنت ہے۔ والإتباع المکروہ ھو أن یصوم یوم الفطر ویصوم بعدہ خمسة أیام، فأما إذا أفطر یوم العید ثم صام بعدہ ستة أیام فلیس بمکروہ؛ بل ھو مستحب وسنة (بدائع الصنائع ، کتاب الصوم ۲: ۵۶۲، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔ ج: صاحب ہدایہ علامہ مرغینانینے فرمایا: مرغوب وپسندیدہ روزوں میں شوال کے مسلسل چھ روزے بھی ہیں(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۸۶ )۔ د:فتاوی عالمگیری میں البحر الرائق کے حوالے سے ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، اور محیط سرخسی کے حوالے سے ہے: صحیح تر قول یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، یعنی: یہ روزے مستحب ہیں؛ کیوں کہ حرج کی نفی قول کراہت کے مقابلہ میں ہے اور ایسی صورت میں حرج نہ ہونے کا مطلب استحباب ہوتا ہے۔ عامة المتأخرین لم یروا بہ - بصوم الستة من شوال- بأساً ھکذا فی البحر الرائق، والأصح أنہ لا بأس بہ کذا فی محیط السرخسي (الفتاوی الھندیة، کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ،۱: ۲۰۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وکلمة ” لا بأس“ ھنا مستعملة فی المندوب ؛لأنہا لیست مطردة لما ترکہ أولی، بل تستعمل فی المندوب أیضاً إذا کان المحل مما یتوھم فیہ البأس أي: الشدة، خاصة إذا تأید ذلک الأمر بالحدیث النبوي - علی صاحبہ الصلاة والسلام - کذا حققہ الحصکفي وابن عابدین الشامي فی الدر المختار وحاشیتہ رد المحتار (کتاب الطھارة۱: ۲۴۱، کتاب الصلاة، باب العیدین ۳: ۶۵،باب الجنائز في شرح قول الدر: ” ولا بأس برش الماء علیہ “ ۳:۱۴۳ و۶: ۲۵۷ ط مکتبة زکریا دیوبند)، ومثلہا کلمة ” لا جناح “ بل قد استعملت ھذہ في سورة البقرة (رقم الآیہ: ۱۵۸)بمعنی الوجوب کما في رد المحتار لابن عابدین الشامي (۶: ۲۵۷)،وکلمة ” لا حرج“ أیضاً؛لأنہا بمعناھا۔ ھ:علامہ حصکفی نے در مختار میں ابن کمال کے حوالے سے وہی مضمون نقل فرمایا ہے ، جو اوپر بدائع کے حوالے سے ذکر کیا گیا،یعنی: عید الفطر کا دن چھوڑ کر ماہ شوال میں چھ روزے رکھنا مستحب وسنت ہے، اور علامہ شامی نے اپنے حاشیہ میں اسے برقرار رکھا؛ بلکہ متعدد کتابوں کے حوالے سے اسے موٴکد فرمایا اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی اور آخر میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ(:تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال) کا حوالہ دیا جس میں علامہ قاسم بن قطلوبغا نے کراہت کے قول کی تردید فرماکر کتب مذہب سے استحباب وسنیت کا قول موٴکد فرمایا ہے، ذیل میں صرف در مختار کی عبارت پیش کی جاتی ہے: والإتباع المکروہ ھو أن یصوم الفطر و خمسة بعدہ، فلو أفطر لم یکرہ؛ بل یستحب ویسن، ابن کمال (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما یکرہ فیھا، ۳: ۴۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔ و: اسی طرح علامہ محمد یوسف بنوری نے بھی سنن ترمذی کی مشہور شرح: معارف السنن (کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام ستة من شوال) میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کی روشنی میں اسی قول کو موٴکد فرمایا ہے کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی ہے۔ ز: علامہ ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن (۹: ۱۷۷، مطبوعہ: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراچی)میں حضرت ابی ایوب انصاری کی روایت پر استحباب کا باب قائم فرمایا ہے،یعنی: باب استحباب صیام ستة من شوال الخ معلوم ہوا کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔ ح: بہشتی زیورکامل(۳: ۱۴۲) میں ہے: عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے۔ درج بالا چند دلائل اور حوالجات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ شوال کے چھ روزے احناف کے نزدیک بلا شبہ مستحب وسنت ہیں اور ان کی کراہت یا بدعت کا قول صحیح نہیں۔ (۵):اگر آدمی تسبیح ہاتھ میں لے کر اس کے ذریعے کلمہ طیبہ ، درود شریف وغیرہ کی گنتی کرتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ تسبیح دائیں ہاتھ میں لے کر گنتی کرے ، بلاعذر ومجبوری اس میں بایاں ہاتھ کا استعمال خلاف سنت اور خلاف افضل ہے؛ کیوں کہ تسبیحات کا عدد شمار کرنا بھی ایک اچھا کام ہے، اور ہر اچھے کام کے لیے دایاں ہاتھ کا استعمال سنت وافضل ہے۔ اور اگر کوئی شخص انگلیوں پر تسبیحات شمار کرتا ہے تو انگلیوں کے ذریعے تعداد شمار کرنے کا جو مسنون طریقہ ہے، اسے سیکھ کر اس کے ذریعے تعداد شمار کرے، اور اگر کسی شخص کو انگلیوں کے ذریعے تعداد شمار کرنے کا مسنون طریقہ نہیں آتا اور ہندوپاک وغیرہ میں عوام میں تسبیحات کا عدد شمار کرنے کا جو طریقہ رائج ہے، یعنی: دونوں ہاتھ کے پوروں پر تیس تک تعداد شمار کرنا، وہ اس کے ذریعے تسبیحات شمار کرتا ہے تو چوں کہ ایسے شخص کے لیے پندرہ کے بعد مجبوری ہوتی ہے ورنہ عدد میں اشتباہ ہوسکتا ہے؛ اس لیے اگرایسا شخص مجبوری کی وجہ سے اس طریقہ پر تسبیحات کی تعداد شمار کرتا ہے اور پندرہ کے بعد بائیں ہاتھ کے پوروں پر شمار کرتا ہے تو اس کی اجازت ہے، اسے ناجائز کہنا غلط ہے، جس طرح مسنون عقد انامل میں سو کے بعد سیکڑے کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کیا جاتا ہے ؛ کیوں کہ دایاں ہاتھ صرف دہاےؤں تک کافی ہوتا ہے، سیکڑے کا حساب بایاں ہاتھ میں ہوتا ہے، اسی طرح اس میں بھی پندرہ کے بعد اشتباہ وغیرہ سے بچنے کے لیے بایاں ہاتھ کا استعمال غلط نہ ہوگا، اور چوں کہ عقد انامل کا مسنون طریقہ عوام کے لیے آسان نہیں، اسے مستقل سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، نیز اس میں انگلیوں کا تیزی کے ساتھ چلانامستقل مشق چاہتاہے ؛ اس لیے عقد انامل کا مسنون طریقہ عوام پر لازم نہیں کیا جاسکتا، باقی اگر کوئی شخص عقد انامل کا مسنون طریقہ سیکھ کر اس کے مطابق سیکڑے تک دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے ذریعے تسبیحات کا عدد شمار کیا کرے تو اس طریقہ کے مسنون اور افضل ہونے میں کچھ شبہ نہیں۔ عن عبد اللہ بن عمرو رضي اللہ عنہما قال:”رأیت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یعقد التسبیح بیمینہ“ أخرجہ أبو داود بلفظہ۲:۸۱ والترمذي ۵:۵۲۱،وانظر صحیح الجامع ۴:۲۸۱ برقم: ۴۸۶۵(حصن المسلم، ص:۹۲)، وصح أنہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یعقد التسبیح بیمینہ، وورد أنہ قال: واعقدوہ بالأنامل فإنھن مسوٴولات مستنطقات، وجاء بسند ضعیف علی علي مرفوعاً : نعم المذکر السبحة، قال ابن حجر: والروایات بالتسبیح بالنوی والحصا کثیرة عن الصحابة وبعض أمھات الموٴمنین؛ بل رآھا صلی اللہ علیہ وسلم وأقرھا علیہ، وعقد التسبیح بالأنامل أفضل من السبحة ، وقیل: إن أمن من الغلط فھو أولی وإلا فھي أولی کذا في شرح المشکاة (حاشیة الطحطاوی علی المراقی،فصل فی صفة الأذکار الواردة الخ ص ۳۱۶، ط:دار الکتب العلمیہ بیروت )،وقال أھل العلم: ینبغي أن یکون عدد التسبیح بالیمین (شرح ابن علان للأذکار ۱: ۲۵۱ عن ابن الجوزي)۔ (۶):مولانا زرولی خان کی تحریر یا تقریر کی روشنی میں دیانت داری کے ساتھ موصوف کے دعوی کی وضاحت کی جائے، نیز علمائے کرام کا جماعت میں جانا جس حدیث کے خلاف ہے ، اس کی تعیین بھی کی جائے ، اس کے بعدانشاء اللہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مولانا موصوف کے نظریہ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ (۷):مولانا موصوف، حضرت پیر ذو الفقار احمد صاحب نقشبندی دامت برکاتہم کی کیا تحقیر کرتے ہیں؟ جواب کے لیے اس کی وضاحت ضروری ہے۔ (۸):سیاق وسباق کے ساتھ کسی عالم کی نقالی کی مکمل تفصیل لکھی جائے۔ (۹): یہ نمبر ۶ سے مربوط ہے؛ لہٰذا سوال: ۶ کی وضاحت کے بعد ہی اس کا جواب لکھا جائے گا۔ (۱۰): مولانا موصوف نے مولانا طارق جمیل صاحب کو اپنی کس کتاب یا بیان میں کافر کہا اور کس بنیاد پر کافر کہا؟ دونوں باتوں کی مکمل وضاحت کی جائے، اس کے بعد انشاء اللہ اس کا جواب تحریر کیا جائے گا ۔ مولانا زرولی خان مزاجاً بہت زیادہ متشدد معلوم ہوتے ہیں، موصوف نے متعدد مسائل میں جمہور علما سے اختلاف کیا ہوا ہے، ہندوستان اور پاکستان وغیرہ میں مولانا موصوف کے بیانات اور تحریرات کی وجہ سے بعض مسائل میں عوام میں بہت زیا دہ انتشار پایا جاتا ہے اور بعض ہوا پسند لوگ ان کی بعض آرا کو بہت زیادہ اہمیت وفوقیت دیتے ہیں؛ اس لیے عوام کو مولاناموصوف کے بجائے دیگر معتبر ومستند اور غیر متشدد علمائے کرام کے بیانات اور کتابوں سے ہی استفادہ کرنا چاہئے ، احتیاط اسی میں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند