• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 607973

    عنوان:

    استخارہ کی حقیقت کیا ہے اور استخارہ کتنی بار کرنا چاہیے ؟

    سوال:

    کسی کام کے لئے 2 بار استخارہ کیا جا سکتا ہے ؟ یعنی کسی کام کے لئے ایک بارمسنون طریقے سے استخارہ کیا مگر علما کی رائے کے مطابق اس کام کے حق میں وہ استخارہ ٹھیک نہیں آیا تو کیا اس امید کے ساتھ کے شائد اس بار استخارہ اچھا ہو تو کیا کچھ ماہ بعد اسی کام کے لئے دوبارہ استخارہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 607973

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:223-81/TD-Mulhaqa=5/1443

     آپ کے سوال سے معلوم ہوا کہ آپ استخارے کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں، پہلے استخارے کی حقیقت سمجھ لیں ، استخارے کے معنی ہیں: خیر طلب کرنا، یعنی: اپنے معاملے میں اللہ سے خیر اور بھلائی کی دعا کرنا، استخارے کے بعد اصل چیز دل کا رجحان ہے ، جس طرف دل مائل ہو، اُسی میں خیر سمجھنا چاہیے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا تھا: یا أنس! إذا صممتَ بأمر، فاستخر رَبَّک فیہ سبع مرات، ثم انظر إلی الذی سبق إلی قلبک، فإن الخیرَ فیہ (شامی: ۴۰۹/۲-۴۱۰، دار إحیاء التراث العربی) اے انس! جب تم کسی کام کا ارادہ کرلو، تو پنے پروردگار سے سات مرتبہ استخارہ کیا کرو، پھر اُس رجحان کو دیکھو جو تمہارے دل میں ہے ؛ کیونکہ اُسی میں خیر ہے اھ۔کام شروع کرنے کے بعد کامیابی کی صورت میں خیر کا ہونا توواضح ہے اور بظاہر ناکامی کی صورت میں خیر کا ہونا اس طرح ہے کہ انجام کے اعتبار سے اس میں بندے کے لیے خیر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تو دنیا میں اس کا نعم البدل دے دیتے ہیں، یا آخرت میں صبر کرنے کا اجر ملے گا، استخارے کے بعد اگر کام ہوا ہی نہیں یا اس میں تاخیر ہوگئی تو یہ سمجھنا چاہیے کہ کام کے نہ ہونے میں یا تاخیر سے ہونے ہی میں اللہ نے خیر رکھی تھی، یہی استخارے کا فائدہ اور خاصہ ہے ۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: استخارے کی حقیقت یہ ہے کہ استخارہ ایک دعا ہے جس سے مقصود طلب اِعانت علی الخیر ہے ، یعنی استخارے کے ذریعے بندہ خدا تعالی سے دعا کرتا ہے کہ میں جو کچھ کروں، اُسی کے اندر خیر ہو اور جو کام میرے لیے خیر نہ ہو،وہ کرنے ہی نہ دیجیے ۔ الخ (انفاس عیسی: /۲ ۲۷۵ بحوالہ استخارہ کیسے کریں، ص: ۲۳، مطبوعہ لاہور) مذکورہ تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ استخارہ سات بار کرنا چاہیے اور استخارے کے بعد تردد کی کیفیت ختم ہوکر جس طرف دل مائل ہوکر طبیعت میں قرار پیدا ہوجائے ، اس پرعمل کرنا چاہیے اور اگر استخارے کے بعد کسی جانب قلب کا رجحان نہ ہو تو جس جانب بھی چاہے عمل کرلیا جائے، انشاء اللہ اس میں خیر ہوگی، یہی قول راجح ہے ۔( امداد الفتاوی: ۵۶۸/۲، رسالہ نافع الاشارة الی منافع الاستخارہ، زکریا، دیوبند، نیز دیکھیں: بوادر النوادر، چہترواں نادرہ تحقیق ثمرہ استخارہ )


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند