• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 607148

    عنوان:

    پریشانی ومصائب سے کیسے چھٹکارا پائیں؟

    سوال:

    سوال :خود شعبہ امامت سے منسلک ہوں ۔گھر میں والد صاحب والدہ صاحبان(دو والدہ)بیمار ہیں۔اسباب کے درجے میں مجھ پر ذمہ داری عائد ہے والدین واہل خانہ کی کفالت کی ، دو والدہ ہیں کبھی ان میں آپس میں سخت باتیں ہوتی ہیں تو پھر دل پریشان سا ہوجاتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ دوں انتہائی تنگی اور گھٹن کی سی کیفیت ہوجاتی ہے اس دوران کبھی سخت بات مجھ سے بھی ہو جاتی ہے ۔آپ اس حوالہ سے رہنمائی فرمائیں کہ جب دل تنگ ہوتا کیا کروں۔منفی خیالات اور سو چ بہت زیادہ آتی ہے کہ امامت چھوڑ دو اس میں کیا رکھاہے لوگوں کی باتوں کے بجائے جاؤ اپنے لئے کچھ اور کام کرو اور مزید بھی سوال دیکھ کر جو رہنمائی آپ بہتر سمجھیں فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا فی الدارین

    جواب نمبر: 607148

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 114-47T/B-Mulhaqa=04/1443

     آپ صبر سے کام لیں، انسان کی زندگی میں حالات تو آتے ہی ہیں، کامیاب وہ ہے جو صبر و شکر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتا ہوا آگے بڑھے؛ اس لیے آپ اپنے کام میں حسب سابق لگے رہیں، والدین وغیرہ کا احترام ہمیشہ ملحوظ رہے، غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو رکھیں، خاموش رہنے کی کوشش کریں، غصہ فرو ہونے کے بعد افہام و تفہیم کی سعی مناسب ہے، اگر معاشی تنگی کا سامنا ہو تو امامت کے ساتھ ساتھ سائڈ سے کوئی دوسرا ذریعہ معاش بھی اختیار کرسکتے ہیں اور ان سب کے ساتھ ساتھ بہ کثرت یہ دعا پڑھیں: ”اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ“ ان شاء اللہ عافیت و سکون محسوس کریں گے اور رزق میں بھی برکت ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند