• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 60268

    عنوان: ختم خواجگان دنیوی مقصد کے لیے پڑھ سکتے ہیں؟

    سوال: (۱) ختم خواجگا ن مستقبل پڑھنا چاہئے یا جب وقت ہو جیسے ہفتے میں ایک بار یا اس سے زیادہ؟ اس کے ثواب کے بارے میں بتائیں۔ (۲ ) ختم خواجگان دنیوی مقصد کے لیے پڑھ سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 60268

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 819-787/N=10/1436-U (۱) ختم خواجگان کوئی مسنون یا مستحب چیز نہیں ہے؛ کیونکہ ختم خواجگان میں جو مخصوص سورتیں وغیرہ خاص تعداد میں پڑھی جاتی ہیں ان کا ان خاص تعداد میں بطور وظیفہ پڑھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، البتہ سکون وطمانینت یا حوائج برآری وغیرہ کے لیے ختم خواجگان کا پڑھنا جائز ومباح ہے بشرطیکہ اسے لازم وضروری نہ سمجھا جائے اور اس میں شرکت نہ کرنے والوں پر کوئی لعن طعن وغیرہ نہ کیا جائے اور اگر نیت صحیح ہو تو اس میں پڑھی جانے والی قرآنی سورتوں وغیرہ پر ثواب بھی ملے گا، الحاصل ختم خواجگان ایک وظیفہ ہے جو بوقت حاجت واقعی مقصد کے تحت پڑھا جاتا ہے یہ کوئی مسنون امر یا مستحب نہیں ہے۔ (۲) جی ہاں! دنیوی حوائج کے لیے بھی ختم خواجگان پڑھ سکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند