• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 600135

    عنوان:

    کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعاء پڑھنا!

    سوال:

    مفتی صاحب، اس حدیث میں میں جو یہ دعاء بتائی گئی ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ جیسے اگر کسی کو شوگر ہے یا کوئی اور مرض ہے ، یا کوئی قرض دار ہے ، اگر ہم اسے دیکھ کر یہ دعاء پڑھے لیں تو ہم قیامت تک ان بلا سے محفوظ رہیں گے ؟ پوری وضاحت کر دیں!

    حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَزِیعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ مَوْلَی آلِ الزُّبَیْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ رَأَی صَاحِبَ بَلَاءٍ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی عَافَانِی مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہِ، وَفَضَّلَنِی عَلَی کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیلًا، إِلَّا عُوفِیَ مِنْ ذَلِکَ الْبَلَاءِ کَائِنًا مَا کَانَ مَا عَاشَ . قَالَ أَبُو عِیسَی: ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ، وَفِی الْبَابِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، وَعَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَہْرَمَانِ آلِ الزُّبَیْرِ ہُوَ شَیْخٌ بَصْرِیٌّ وَلَیْسَ ہُوَ بِالْقَوِیِّ فِی الْحَدِیثِ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِأَحَادِیثَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ، أَنَّہُ قَالَ: إِذَا رَأَی صَاحِبَ بَلَاءٍ فَتَعَوَّذَ مِنْہُ یَقُولُ ذَلِکَ فِی نَفْسِہِ وَلَا یُسْمِعُ صَاحِبَ الْبَلَاءِ.

    جواب نمبر: 600135

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:93-91/L=2/1442

     یہ دعا ہر مصیبت سے حفاظت کے لئے پڑھی جاسکتی ہے ، چاہیے دنیاوی مصیبت ہو یا دینی کمی ہو، یہ دعا عام ہے ۔اوراس حدیث کے معنی کی تائید قرآن مجید کی آیت " لئن شکرتم لأزیدنکم" سے بھی ہوتی ہے ۔

    قال فی مرقاة المفاتیح :من رأی صاحب بلاء أی مبتلی فی أمر بدنی کبرص وقصر فاحش أو طول مفرط أو عمی أو عرج أو اعوجاج ید ونحوہا أو دینی بنحو فسق وظلم وبدعة وکفر وغیرہا.( مرقاة المفاتیح ۴۸۶۱/۴)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند