متفرقات >> دعاء و استغفار
سوال نمبر: 58942
جواب نمبر: 58942
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 547-541/N=7/1436-U (۱) جی ہاں! اس کی وجہ یہی ہے کہ نماز میں غفلت وغیرہ کے حوالے سے جو کوتاہی ہوئی وہ استغفار کے ذریعہ معاف ہوجائے۔ (۲) تلاوت قرآن کے بعد کفارة المجلس کی دعا آتی ہے اور اس میں استغفار بھی ہے؛ لہٰذا اسے پڑھنا چاہیے، عمل الیوم واللیلة للنسائی (ص ۲۷۳، حدیث نمبر: ۳۰۸، ما یختم تلاوة القرآن) میں ہے: عن عائشة قالت: ما جلس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجلسا قط ولا تلی قرآنًا ولا صلی صلاة إلا ختم ذلک بکلمات، فقالت: فقلت: یا رسول اللہ! أراک ما تجلس (مجلسًا) اھ ولا تتلو قرآنا ولا تصلي صلاة إلا ختمت بہوٴلاء الکلمات؟ قال: نعم، من قال خیرًا ختم لہ طابع علی ذلک الخیر ومن قال شرًّا کن لہ کفارةً․ سبحانک وبحمدک لا إلہ إلا أنت، استغفرک وأتوب إلیک“․
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند