• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 58030

    عنوان: اچھے اورجلدی قبول ہونے والے استغفار کون کون سے ہیں ؟

    سوال: (۱) اچھے اورجلدی قبول ہونے والے استغفار کون کون سے ہیں ؟ (۲) میں نے” بکھرے موتی “میں پڑھا ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر اس امت میں گناہ کرنے والا نہ ہوتا تو میں ایسی امت پیدا فرماتا جو گناہ کرے پھر میں انہیں بخش دوں․․․․․ یہ میرے سمجھ میں نہیں آیا ․․․․․․وضاحت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 58030

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 429-416/H=6/1436-U (۱) تمام منقول استغفار اچھے ہیں، اور ہرایک کی اپنی تاثیر ہے، ذیل میں چند استغفار ذکر کیے جاتے ہیں۔ (الف) شداد بن اوس رضی اللہ اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سید الاستغفار یہ ہے: اللَّہُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُکَ، وَأَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ، وَأَبُوءُ لَکَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِی، فَإِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ․ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ثواب کی امید رکھتے ہوئے اسے دن میں (جیسے صبح کے وقت) پڑھ لے اور شام سے پہلے انتقال کرجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا اور جو رات کے وقت ثواب کے یقین کے ساتھ پڑھ لے اور صبح سے پہلے انتقال کرجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا۔ (بخاری شریف: ۲/۹۳۳) (ب) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ جو شخص بستر پر لیٹتے وقت تین مرتبہ یہ کہہ لے ”أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ الَّذِي لَا إِلَہَ إِلَّا ھُوَ الْحَیَّ الْقَیُّومَ، وَأَتُوبُ إِلَیْہ“ تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرمادیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے بقدر ہوں، اگرچہ وہ درختوں کے پتوں کی تعداد میں ہوں، ا گرچہ وہ عالج بیابان کے ریت کے بقدر ہوں۔ (ترمذی شریف: ۲/۱۷۶) (ج) حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، سب سے مکمل استغفار یہ ہے کہ بندہ کہے: ”اللھُمَّ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِی، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِی، وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، أَیْ رَبِّ فَاغْفِرْ لِي ذنبي“ (مجمع الزوائد: ۱۰/۲۰۹ قدیمی) (۲) اس ارشاد گرامی کا مقصد مغفرت اور رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کو بیان کرنا ہے، اور یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسم پاک غفور کی شان کو ظاہر کرنے کے لیے اتنا بخشش کرنے ولا ہے اس لیے لوگو کو چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے میں کوتاہی نہ کریں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، اس حدیث سے گناہ کی ترغیب دینا ہرگز مقصود نہیں، اس لیے کہ گناہوں سے بچنے کا حکم خود اللہ نے دیا ہے اور اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لیے بھیجا کہ وہ لوگوں کو گناہ ومعصیت سے نکال کر طاعت وعبادت کی راہ پر لگائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند