• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 56089

    عنوان: استخارے كی قرآن وحدیث میں كیا حیثیت ہے؟

    سوال: میرا ایک سوال ہے کہ استخارہ کی قرآن وحدیث میں کیا اہمیت ہے؟ اگر کوئی استخارہ کرے تو اس میں وہ اللہ کو یہ کہتاہے کہ جس کام کے لیے میں استخارہ کررہا ہوں اگر اس میں میری دنیا و آخرت کا نفع ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اس آسان بنادے ، اب اس کو اشارہ خواب کی شکل میں ہوجاتاہے اور علماء اس کی تعبیر کہتے ہیں کہ اگر آپ کا یہ کام ہوجاتاہے جس کے لیے استخارہ کیا ہے تو اس میں آپ کے لیے نفع ہے، مگر وہ کام یا تو ہوتاہے نہیں یا اس میں بہت تاخیرہوجاتی ہے کہ ہم تو اللہ کو یہ بتائے ہیں اگر اس میں خیر ہو تو کردے اور اشارے کی بنیاد پر علماء فرماتے ہیں کہ اس میں خیر ہے تو پھر کیوں نہیں ہوتا؟ ہمیں پتا ہے کہ ہم عمل کا حق ادا نہیں کرسکتے ہیں مگر سنت پر عمل کرنے کی ایک کمزور کوشش تو ہر مسلمان کرسکتاہے اگر اس کوشش کے باوجود بھی فیصلہ نہیں ہوتاتو غلطی کہاں پر ہے؟ اگر استخارہ کی وجہ سے ایسی حالت بن جائے تو کیا میں آئندہ استخارہ کرسکتاہوں؟

    جواب نمبر: 56089

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 109-109/Sd=3/1436-U (۱-۲) استخارہ کرنا مسنون ہے، احادیث میں اس عمل کی بہت ترغیب آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص استخارہ کرکے کام کرتا ہے، وہ ناکام نہیں ہوتا“ استخارے کے معنی ہیں: خیر طلب کرنا، یعنی: اپنے معاملے میں اللہ سے خیر اور بھلائی کی دعا کرنا، استخارے کے بعد اصل چیز دل کا رجحان ہے، اس میں خواب کا نظر آنا ضروری نہیں ہے، جس طرف دل مائل ہو، اُسی میں خیر سمجھنا چاہیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا تھا: ”یا أنس! إذا صممتَ بأمر، فاستخر رَبَّک فیہ سبع مرات، ثم انظر إلی الذي سبق إلی قلبک، فإن الخیرَ فیہ“ (شامي: ۲/۴۰۹-۴۱۰، دار إحیاء التراث العربی) اے انس! جب تم کسی کام کا ارادہ کرلو، تو پنے پروردگار سے سات مرتبہ استخارہ کیا کرو، پھر اُس رجحان کو دیکھو جو تمہارے دل میں ہے؛ کیونکہ اُسی میں خیر ہے اھ۔ کامیابی کی صورت میں خیر کا ہونا توواضح ہے اور بظاہر ناکامی کی صورت میں خیر کا ہونا اس طرح ہے کہ انجام کے اعتبار سے اس میں بندے کے لیے خیر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تو دنیا میں اس کا نعم البدل دے دیتے ہیں، یا آخرت میں صبر کرنے کا اجر ملے گا، استخارے کے بعد اگر کام ہوا ہی نہیں یا اس میں تاخیر ہوگئی تو یہ سمجھنا چاہیے کہ کام کے نہ ہونے میں یا تاخیر سے ہونے ہی میں اللہ نے خیر رکھی تھی، یہی استخارے کا فائدہ اور خاصہ ہے۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: استخارے کی حقیقت یہ ہے کہ استخارہ ایک دعا ہے جس سے مقصود طلب اِعانت علی الخیر ہے، یعنی استخارے کے ذریعے بندہ خدا تعالی سے دعا کرتا ہے کہ میں جو کچھ کروں، اُسی کے اندر خیر ہو اور جو کام میرے لیے خیر نہ ہو،وہ کرنے ہی نہ دیجیے“۔ الخ (انفاس عیسی: ۲/ ۲۷۵ بحوالہ استخارہ کیسے کریں، ص: ۲۳، مطبوعہ لاہور) اگر آپ استخارے کی مذکورہ حقیقت سمجھ لیں گے؛ تو سوال میں مذکور آپ کا خلجان دور ہوجائے گا، استخارے کے بعد اگر آپ کا کام نہیں ہوتا ہے یا اس میں تاخیر ہوتی ہے، تو آپ اِسی میں خیر سمجھیں اور اس مسنون عمل کو جاری رکھیں (مستفاد: شامی: ۲/۴۰۹- ۴۱۰، کتاب الصلاة، مطلب فی رکعتي الاستخارة، ط: دار احیاء التراث العربی، بیروت، امداد الفتاوی: ۲/۵۶۸، رسالہ نافع الاشارة الی منافع الاستخارہ، زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند