• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 51503

    عنوان: ہمارے یہاں مسجد کی باؤنڈری کے اندر عورتیں اور مرد غیر مسلم دعا کے لیے آتے ہیں ، نماز کے بعد نمازی لوگ ان کو دعا کرتے ہیں، میں ان باتوں کے بارے میں جاننا چاہتاہوں۔

    سوال: ہمارے یہاں مسجد کی باؤنڈری کے اندر عورتیں اور مرد غیر مسلم دعا کے لیے آتے ہیں ، نماز کے بعد نمازی لوگ ان کو دعا کرتے ہیں، میں ان باتوں کے بارے میں جاننا چاہتاہوں۔ (۱) غیر مسلم عورت اور مرد کا مسجد کی باؤنڈری کے اندر آنا کیسا ہے؟(۲) ان کے پھونک کرنا اور دعا کرنا کیسا ہے؟(۳) ان کے ساتھ اگر بچے ہوں تو دعا کرسکتے ہیں؟(۴) اگر دعا کریں تو کیا پڑھیں؟(۵) عورتیں باپردہ ہوتی ہیں تو کیا ان کو مسجد کی باؤنڈری کے اندر آنے سے منع کرسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 51503

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 614-605/N=5/1435-U (۱) اگر غیرمسلم مرد یا عورتیں پردہ کے ساتھ عقیدت مندی میں نمازیوں سے پھونک وغیرہ ڈلوانے کے لیے مسجد آتی ہیں اور بضرورت مسجد کی باوٴنڈری میں لوگوں کی گذرگاہ سے ہٹ کر کنارے کھڑی ہوجاتی ہیں تو انھیں منع کرنے کی ضرورت نہیں، اور اگر مسجد کے باہر کوئی مناسب جگہ ہو تو وہاں کھڑی ہونے کے لیے کہہ دیا جائے۔ (۲) احتیاط اور پردہ شرعی کی رعایت کے ساتھ دونوں امر درست ہیں۔ (۳) جی ہاں! ان کے بچوں کے لیے بھی شفایابی وتندرستی وغیرہ کی دعا کرسکتے ہیں، اور اگر ان کے لیے اور ان کے بچوں کے لیے ہدایت کی دعا بھی کردیں تو یہ بہت اچھا ہے، حدیث میں ہے کہ ”اللہ تعالیٰ تمھارے ذریعہ کسی کو ہدایت دیدیں تو یہ تمھارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے“ اوردعا بھی بعض مرتبہ ہدایت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ (۴) تین بار آیت الکرسی پڑھ کر دم کردیں یا سورہٴ فاتحہ پڑھ کر دم کردیں اور اگر دعا کرنی چاہیں تو دنیوی تمام امور اور ہدایت سب کی دعا کرسکتے ہیں۔ (۵) اس کا جواب اوپر نمبر ایک میں آگیا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند