• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 50658

    عنوان: اللہم الرزقني فہم النبیین وحفظ المرسلین وإلہام الملائکة المقربین۔ آیا ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگنا جائز ہے؟

    سوال: انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کے طریقے کی اتباع کی دعا مانگنا تو صحیح ہے آیا جو انبیاء کی خاص کیفیات ہیں مثلاً ان کی فہم ان کا حفظ آیا اس کے حصول کی دعا مانگنا جائز ہے جیسے کہ انٹرنیٹ پر امتحان کے موقع پر دعا مانگنے کے لیے یہ الفاظ چلے رہے ہیں۔ اللہم الرزقني فہم النبیین وحفظ المرسلین وإلہام الملائکة المقربین۔ آیا ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگنا جائز ہے؟

    جواب نمبر: 50658

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 473-477/H=4/1435-U جس چیزکا آدمی کو حق نہ ہواس کی دعا مانگنا منع ہے، کیوں کہ یہ حد سے بڑھنا ہے جس سے شریعت میں روکا گیا ہے: قال اللہ تعالی: ادْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَةً اِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (اعراف: ۵۵) مذکورہ الفاظ میں حد سے تجاوز کا ایہام ہوتا ہے، اگرچہ تاویل کرکے معنی کی تصحیح کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ مذکورہ الفاظ سے دعا نہ کریں: عن أبی نعامة أن عبد اللہ بن مغفل سمع ابنہ یقول: اللہم إني أسئلک القصر الأبیض عن یمین الجنة إذا دخلتہا: قال أي بُنَيَّ سل اللہ الجنة وتعوذ بہ من النار فإني سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول إنہ سیکون في ہذہ الأمة قوم یعتدون في الطہور والدعاء (أبوداوٴد کتاب الطہارة، باب الإسراف في الوضوء) قال التورپشتي أنکر الصحابي علی ابنہ في ہذہ المسألة حیث طمح إلی ما لم یبلغہ عملاً وسأل منازل الأنبیاء وجعلہا من الاعتداء في الدعاء لما فیہا من التجاوز عن الحد (بذل: ۱/۴۸۵ طبع اعظم گڑھ) جو دعائیں منقول ہیں، ان کے ذریعے دعا مانگا کریں، مثلاً امتحان کی آسانی کے لیے یہ دعا مانگیں۔ اللہم لا سہل إلا ما جعلتہ سہلاً وأنت تجعل الحزن إذا شئت سہلاً (المنتقی من کتاب الأذکار، ص: ۱۱۰، بحوالہ مسلم شریف)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند