• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 50213

    عنوان: حضرت صبح و شام کی دعا سے کیا مراد ہے؟

    سوال: حضرت صبح و شام کی دعا سے کیا مراد ہے؟ صبح کی دعا فجر کے بعد پڑھنی ہے یا صبح کبھی بھی پڑھ سکتے ہیں اور شام کی عصر سے مغرب تک پڑھ سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 50213

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 333-287/H=3/1435-U جن اذکار ودعاء کی صبح اور شام کے وقت میں پڑھنے کی ترغیب وارد ہے، وہ دعا یا ذکر مراد ہے اور صبح والی دعائیں صبحِ صادق سے اشراق تک کسی وقت بھی پڑھ لے اور رہ جائیں تو دوپہر تک پڑھ لے، شام کی دعائیں مغرب تک بلکہ سونے تک پڑھ لیں سب درست ہے۔ دعاء میں توسع بھی ہوتا ہے وقتِ مقررہ سے کچھ تقدیم تاخیر بھی کسی وجہ سے ہوجائے تو مضائقہ نہیں ہوتا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند