• متفرقات >> دعاء و استغفار

    سوال نمبر: 14095

    عنوان:

    ہمارے علاقہ میں ذکری جو کہ غیر مسلم ہیں (جادو میں مہارت رکھتے ہیں)۔آج کل ایک مسئلہ چل رہا ہے یہاں تقریباً تین سو کشتیاں ہیں ۔ آج کل سمندر میں مچھلیوں کی تھوڑی کمی ہے۔ اکثر کشتیاں خالی آجاتی ہیں قریب ایک مہینہ ہورہا ہے۔ لیکن دویا تین کشتیاں ایسی ہیں کہ ہفتہ میں پانچ دن چار دن لازمی مچھلیاں لاتے ہیں۔ جس علاقہ میں دوسرے لوگ مچھلی کا جھنڈ دیکھتے ہیں دوسرے اس جھنڈ سے پکڑتے ہیں تو بے کار مچھلی ہوتی ہے جس کی مارکیٹ میں کوئی قیمت نہیں ،جب کہ ان کشتیوں میں سے کوئی جال پھینکتے ہیں تو وہ مچھلیاں پکڑتے ہیں جس کی قیمت ہوتی ہے۔ میرا دوست کہتا ہے بلکہ اکثر کہتے ہیں کہ یہ جادو کروا رہے ہیں اس وجہ سے مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ (۱)کیا جادو سے ایسا ہوسکتا ہے کہ سارے کشتی والے مچھلی نہیں پکڑتے یہ لوگ ہفتہ میں پانچ دن چار دن لازمی پکڑتے ہیں؟ (۲)اگر جو ذکری ماسٹر قرآن کی آیات وغیرہ سے بغیر شرک کے کسی کو کچھ تعویذ دے جس سے وہ بھی مچھلی لاتا ہو تو کیا اس ماسٹر ذکر ی کے پاس جاکر یہ تعویذ لے سکتے ہیں؟ کیا اس کی اجازت ہے؟

    سوال:

    ہمارے علاقہ میں ذکری جو کہ غیر مسلم ہیں (جادو میں مہارت رکھتے ہیں)۔آج کل ایک مسئلہ چل رہا ہے یہاں تقریباً تین سو کشتیاں ہیں ۔ آج کل سمندر میں مچھلیوں کی تھوڑی کمی ہے۔ اکثر کشتیاں خالی آجاتی ہیں قریب ایک مہینہ ہورہا ہے۔ لیکن دویا تین کشتیاں ایسی ہیں کہ ہفتہ میں پانچ دن چار دن لازمی مچھلیاں لاتے ہیں۔ جس علاقہ میں دوسرے لوگ مچھلی کا جھنڈ دیکھتے ہیں دوسرے اس جھنڈ سے پکڑتے ہیں تو بے کار مچھلی ہوتی ہے جس کی مارکیٹ میں کوئی قیمت نہیں ،جب کہ ان کشتیوں میں سے کوئی جال پھینکتے ہیں تو وہ مچھلیاں پکڑتے ہیں جس کی قیمت ہوتی ہے۔ میرا دوست کہتا ہے بلکہ اکثر کہتے ہیں کہ یہ جادو کروا رہے ہیں اس وجہ سے مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ (۱)کیا جادو سے ایسا ہوسکتا ہے کہ سارے کشتی والے مچھلی نہیں پکڑتے یہ لوگ ہفتہ میں پانچ دن چار دن لازمی پکڑتے ہیں؟ (۲)اگر جو ذکری ماسٹر قرآن کی آیات وغیرہ سے بغیر شرک کے کسی کو کچھ تعویذ دے جس سے وہ بھی مچھلی لاتا ہو تو کیا اس ماسٹر ذکر ی کے پاس جاکر یہ تعویذ لے سکتے ہیں؟ کیا اس کی اجازت ہے؟

    جواب نمبر: 14095

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1082=1023/ب

     

    یہ سب وہم کی باتیں ہیں، خواہ مخواہ جادو کا وہم کرنا جائز نہیں، اس کے لیے تعویذ لینے کی ضرورت نہیں۔ اللہ پر توکل رکھنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند