• عقائد و ایمانیات >> فرق ضالہ

    سوال نمبر: 9019

    عنوان:

    کچھ دنوں سے میرے ذہن میں ایک سوال گردش کررہا ہے۔ میں دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ احمد رضا خان نے ہمارے علما پر جھوٹ باندھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ احمد رضا خان نے عشق میں ڈوبی کئی نعتیں لکھی ہیں۔ کیا ایک بندہ جو عاشق بھی ہو ایسا کام کرسکتا ہے، ہم جب جانتے ہیں کہ نعت لکھنے کے لیے عشق کا ہونا ضروری ہے؟ آپ میرا مطلب سمجھ رہے ہوں گے۔ برائے مکمل جواب دیں۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔

    سوال:

    کچھ دنوں سے میرے ذہن میں ایک سوال گردش کررہا ہے۔ میں دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ احمد رضا خان نے ہمارے علما پر جھوٹ باندھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ احمد رضا خان نے عشق میں ڈوبی کئی نعتیں لکھی ہیں۔ کیا ایک بندہ جو عاشق بھی ہو ایسا کام کرسکتا ہے، ہم جب جانتے ہیں کہ نعت لکھنے کے لیے عشق کا ہونا ضروری ہے؟ آپ میرا مطلب سمجھ رہے ہوں گے۔ برائے مکمل جواب دیں۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔

    جواب نمبر: 9019

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2285=1777/ھ

     

    آپ اہل حق اکابر علمائے دیوبند کے مسلک حق سے متعلق ہیں، اور بہت موٹی سی بات نہ سمجھ سکے، تعجب ہے، بخاری شریف میں شاہِ ہرقل اورحضرت ابوسفیان کے درمیان جو مکالمت ہوئی، وہ بہت تفصیل سے موجود ہے، ہرقل بادشاہ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح اور تعریف میں ایسے شاہانہ عالیشان کلمات کہے تھے کہ شاید کچھ مسلمان بھی اس قسم کے تعریفی کلمات نہ کہہ سکیں، مگر چونکہ شاہ ہرقل ایمان نہ لایا، اس لیے اس کی زبان سے نکلے ہوئے تعریفی کلمات اس کو جہنم سے نہ بچاسکے، آج بھی بہت سے غیرمسلم نظم ونثر میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ مقدس میں بہت اونچا اور عالیشان کلام کرتے ہیں، مگر ایمان نہیں لاتے تو کیا یہ سب عشق رسول میں ڈوبے ہوئے ہیں؟ اس کا جواب ظاہر ہے کہ ہرگز نہیں اور آپ کو بھی اس سے انکار نہ ہوگا، اصل یہ ہے کہ عشق ومحبت کا محل دل ہے اور وہ امر پوشیدہ ہے، البتہ جس شخص کی زندگی تقویٰ طہارت ادائے حقوق وحقوق العباد نیز اتباع سنت میں گذرتی ہے وہ عاشق رسول ہے، خواہ ایک نعت اس نے نہ کہی ہو، ارو نثر میں اس کا کوئی کلام ہو تب بھی عشق ومحبت رسول پر آنچ نہیں آتی، اس کے برخلاف لاکھ نعتیں گاتا پھرے مگر زندگی خلافِ سنت امور میں بسر کرتا ہو گالی گلوچ دجل و تلبیس اس کا شیوہ ہو، وہ ہرگز محب رسول نہیں۔ امید ہے مطلب آپ سمجھ جائیں گے، اللہ آپ پر رحم کرے اوردینی امور میں صحیح سمجھ عطا فرمائے، آمین۔ اگر اب بھی کچھ اشکال رہے تو لکھ کر معلوم فرمالیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند