• عقائد و ایمانیات >> فرق ضالہ

    سوال نمبر: 3040

    عنوان:

    فتویٰ نمبر ۵۸۵/ب میں جو آپ نے فرمایا ہے کہ بریلوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو هر وقت ہرجگہ حاضر وناظر مانتے ہیں اور قبروں کو سجدہ کرتے ہیں، براہ کرم اس کا حوالہ عطا فرمادیں۔ آپ نے فرمایا کہ: یہ لوگ قبروں کا سجدہ کرتے ہیں، یعنی یہ بریلویوں کا عقیدہ ہے، ان کے کس کس عالم نے قبروں کا سجدہ کرنا جائز یامستحب لکھا ہے؟ تسلی کے لیے ایک آدھ کا حوالہ عطا فرمادیں۔

    سوال:

    فتویٰ نمبر ۵۸۵/ب میں جو آپ نے فرمایا ہے کہ بریلوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو هر وقت ہرجگہ حاضر وناظر مانتے ہیں اور قبروں کو سجدہ کرتے ہیں، براہ کرم اس کا حوالہ عطا فرمادیں۔ آپ نے فرمایا کہ: یہ لوگ قبروں کا سجدہ کرتے ہیں، یعنی یہ بریلویوں کا عقیدہ ہے، ان کے کس کس عالم نے قبروں کا سجدہ کرنا جائز یامستحب لکھا ہے؟ تسلی کے لیے ایک آدھ کا حوالہ عطا فرمادیں۔

    جواب نمبر: 3040

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1564/ ب= 1358/ ب

     

    فاضل بریلوی مفتی احمد یار نعیمی کی کتاب جاء الحق ملاحظہ فرمائیں۔ رضاخانی صاحب کے من گھڑت ایجاد کردہ عقیدہٴ حاضر و ناظر کے ثبوت کے لیے جس میں انھوں نے کافی بحث کی ہے۔

    (۲) سجدہٴ تعظیمی کے سلسلے میں ملاحظہ فرمائیے تمہید الایمان مصنفہ رضاخان صاحب صفحہ نمبر 36 جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ بتوں کو سجدہ کرنے سے آدمی کافر نہیں ہوتا چہ جائے کہ اولیاء اللہ کے قبور کو سجدہ کرنے سے کافر ہوگا، اور اس بات کو وہ دل سے مانتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے بلاغ المبین: ص233، اور مزید تشفی کے لیے اصلاحی بہشتی زیور مصنفہ حشمت علی صاحب بھی دیکھ سکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند