• عقائد و ایمانیات >> فرق ضالہ

    سوال نمبر: 2459

    عنوان:

    اہل حدیث کے تعلق سے آپ نے فرمایاہے کہ تقلید واجب ہے، لیکن شریعت کے مطابق ایک مسلمان کو تقلید کیوں کرنی چاہئے؟ بلکہ اسے قرآن وحدیث کا مطالعہ کرنا چاہئے اس سے وہ مسائل سے آگاہ ہوجائیں گے۔ آپ نے لکھاہے کہ چار مجتہدین کے علاوہ اہل حدیث غلط راہ پہ ہیں، کیا ہم انہیں غلط کہہ سکتے ہیں؟۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کے حوالے سے جواب دیں۔

    سوال:

    اہل حدیث کے تعلق سے آپ نے فرمایاہے کہ تقلید واجب ہے، لیکن شریعت کے مطابق ایک مسلمان کو تقلید کیوں کرنی چاہئے؟ بلکہ اسے قرآن وحدیث کا مطالعہ کرنا چاہئے اس سے وہ مسائل سے آگاہ ہوجائیں گے۔ آپ نے لکھاہے کہ چار مجتہدین کے علاوہ اہل حدیث غلط راہ پہ ہیں، کیا ہم انہیں غلط کہہ سکتے ہیں؟۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کے حوالے سے جواب دیں۔

    جواب نمبر: 2459

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 673/ ل= 655/ ل

     

    اس سوال کے جواب کو سمجھنے کے لیے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اس مکمل شریعت کی اصلاً تین بنیادیں ہیں، کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور اجماع امت۔ کتاب اللہ اصل الاصول ہے، سنت کتاب اللہ کی تشریح ہے اور اجماعت امت بعض سنت کا بیان ہے کتاب و سنت کے احکام کی کوئی نہ کوئی علت ضروری ہوتی ہے، البتہ وہ علت کبھی ظاہر ہوتی ہے اور کبھی مخفی، مخفی علتوں کو متعین کرنا بہت دشوار ہے اس کام کے لیے بڑی دقت نظر کی ضرورت ہوتی ہے، امت کے بعض اہل اللہ سے اللہ نے یہ خدمت لی جن کی قرآن و حدیث اور مزاجِ شریعت پر بڑی گہری اور پوری نظر تھی، امت کا سواد اعظم سلفاً و خلفاً قرناً بعد قرنٍ ان کی امامت اور جلالت شان کا قائل ہے، مخفی علتوں کومتعین کرکے نئے نئے مسائل کے احکام معلوم کرنے کا نام اجتہاد ہے اور علل مطلقہ پر غیرمنصوص مسائل کو منطبق کرکے علت مشترکہ کی بنا پر منصوص حکم کو غیرمنصوص کے لیے ثابت کرنے کا نام قیاس ہے، پس قیاس کی بنیاد کتاب و سنت اور اجماع امت ہی ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ائمہ کے مجتہَدات (اجتہادی مسائل) یعنی فقہ درحقیقت حدیث ہی کا نتیجہ ہے، حدیث کے مقابل کوئی نئی چیز نہیں ہے، علامہ حصکفی لکھتے ہیں: ومحطھا أن الفقہ ھو ثمرة الحدیث (الدر المختار مع الشامي: ج۱ ص۱۳۸، ط زکریا دیوبند) نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اجتہاد اور قیاس کرنا ہرایک کے بس کی بات نہیں ہے جب کہ مسائل پر خواہ قدیم ہوں یا جدید شرعاً عمل کرنا ضروری ہے، اس لیے امت کے قابل اعتبار علمائے دین کا کسی امام کی تقلید پر اجماع ہے خصوصاً اس زمانے میں جب کہ شریعت پر عمل کرنے کے لیے ہمتیں پست ہیں، نفس میں خواہشات کا دخل ہے اور خودرائی کا غلبہ ہے۔ مسند الہند،امام اکبر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی اپنی معرکة الآراء کتاب حجة اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں: إن ھذہ المذاھب الأربعة المدونة المحررة قد أجمعت الأمة أو من یعتد بہ منھا علی جواز تقلیدھا إلی یومنا ھذا وفي ذلک من المصالح ما لا یخفی لاسیما في ھذہ الأیام التي قصرت فیھا الھمم جدًا، أشربت النفوس الھوی وأعجب کل ذي رأي برأیہ (حجة اللہ البالغة: ج۱ ص۱۵۳، باب حکاة حال الناس قبل المائة الرابعة وبعدھا، ط مصر) حضرت شاہ صاحب اپنی دوسری کتاب عقد الجید میں فرماتے ہیں: اعلم أن في الأخذ بھذہ المذاھب الأربعة مصلحة عظیمة وفي الإعراض عنھا کلھا مفسدة کبیرة (عقد الجید: ۳۶، باب تاکید الأخذ بمذاھب الأربعة والتشدید في ترکھا والخروج عنھا ط لاہور) اور ترک تقلید میں خواہشات پر عمل کرنا ہوگا، اس صورت میں دین تو رہے گا نہیں غرض اور نفس پرستی رہ جائے گی۔ علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: في وقت یقلدون من یفسد النکاح وفي وقد یقلدون من یصححہ بحسب الغرض والھوی ومثل ھذا لا یجوز (فتاوی ابن تیمیة بحوالہ فتاویٰ رحیمیة: ج۴ ص۱۹۱) جب تقلید کی حقیقت اور اس کی ضرورت کا علم ہوگیا تو غیرمقلدین جوکہ اپنے کو اہل حدیث کہتے ہیں ان کا غلط راہ پر ہونا واضح ہوگیا، لہٰذا انھیں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ غلطی پر ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند