• عقائد و ایمانیات >> فرق ضالہ

    سوال نمبر: 2449

    عنوان:

    میں پارٹ ٹائم جوب (وقتی ملازمت) کررہاہوں۔ میں جمعرات، جمعہ اور سنیچر کو کام کرتاہوں، جہاں میں کام کرتاہوں وہاں قریب میں صرف ایک مسجد ہے، سب لوگ بریلوی عقیدہ کے ہیں اور میں دیوبندی عقیدہ کا۔ براہ کرم، میری رہ نمائی فرمائیں کہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھوں یانہیں یاصرف جمعہ کی نماز پڑھوں؟ واضح رہے کہ اس شہرمیں صرف ایک ہی مسجدہے، ایک مسجدایک گھنٹہ کے فاصلے پرہے، مجھے صرف ۴۵/منٹ کی چھٹی ملتی ہے جس کے دوران میں جمعہ کی نمازپڑھ سکتاہوں۔

    سوال:

    میں پارٹ ٹائم جوب (وقتی ملازمت) کررہاہوں۔ میں جمعرات، جمعہ اور سنیچر کو کام کرتاہوں، جہاں میں کام کرتاہوں وہاں قریب میں صرف ایک مسجد ہے، سب لوگ بریلوی عقیدہ کے ہیں اور میں دیوبندی عقیدہ کا۔ براہ کرم، میری رہ نمائی فرمائیں کہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھوں یانہیں یاصرف جمعہ کی نماز پڑھوں؟ واضح رہے کہ اس شہرمیں صرف ایک ہی مسجدہے، ایک مسجدایک گھنٹہ کے فاصلے پرہے، مجھے صرف ۴۵/منٹ کی چھٹی ملتی ہے جس کے دوران میں جمعہ کی نمازپڑھ سکتاہوں۔

    جواب نمبر: 2449

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1083/ ج= 1083/ ج

     

    بریلوی حضرات کے عقائد چوں کہ حد شرک تک پہنچے ہوئے ہیں؛ اس لیے ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، اگر بوجہِ مجبوری آپ ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں توبعدمیں اس کااعادہ کرلیا کریں۔ البتہ اگرآپ کو یہ معلوم ہو کہ یہ بریلوی لوگ صرف تیجہ اور چالیسواں وغیرہ جیسی بدعات میں مبتلا ہیں اور ان کا کوئی شرکیہ عقیدہ نہیں ہے تو نماز ان کے پیچھے ہوجاتی ہے۔ اگر آپ کے یہاں امام صاحب ایسے ہی ہیں تو آپ ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں ورنہ تنہا نماز پڑھ لیں یادو چار لوگوں کو لے کر گھر یا دوکان پر ہی جماعت کرلیا کریں۔

    نوٹ: البتہ جمعہ کی نماز تنہا ادانہیں ہوتی امام کے علاوہ کم از کم تین افراد اور ہونے چاہئیں نیز جمعہ کے لیے اور بھی شرائط ہیں جن کا لحاظ ضروری ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند