• عقائد و ایمانیات >> فرق ضالہ

    سوال نمبر: 2222

    عنوان:

    اللہ اپ لوگوں کو اور ترقی عطاکرے ۔ آمین ۔ میر سوال یہ ہے کہ میں غیر مقلد ین کے علاقے میں رہتاہوں، وہ کہتے ہیں کہ ہم جو نماز پڑھ رہے ہیں وہ حدیث کے مطابق نہیں ہے۔ براہ کرم، درج ذیل موضو ع پرمستند احادیث کا حوالہ دیں (۱) نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ رکھنا ۔ (۲) دعائے قنوت ۔ (۳) سجدہ سہو ۔ (۴) تراویح ۲۰ / رکعات ۔(۶) عیدین کی نمازوں کے آخر میں تکبیر۔

    سوال:

    اللہ اپ لوگوں کو اور ترقی عطاکرے ۔ آمین ۔ میر سوال یہ ہے کہ میں غیر مقلد ین کے علاقے میں رہتاہوں، وہ کہتے ہیں کہ ہم جو نماز پڑھ رہے ہیں وہ حدیث کے مطابق نہیں ہے۔ براہ کرم، درج ذیل موضو ع پرمستند احادیث کا حوالہ دیں (۱) نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ رکھنا ۔ (۲) دعائے قنوت ۔ (۳) سجدہ سہو ۔ (۴) تراویح ۲۰ / رکعات ۔(۶) عیدین کی نمازوں کے آخر میں تکبیر۔

    جواب نمبر: 2222

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 666/ ل= 635/ ل

     

    (۱) ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی روایت عن علقمة بن وائل بن حجر عن أبیہ قال: رأیت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یصنع یمینہ علی شمالہ تحت السرة (مصنف ابن أبي شبیة: ج۱ ص۳۹) قال الحافظ بن قطلوبغا في تخریج أحادیث الاختیار شرح المختار: ھذا سند جید وقال العلامة محمد أبو الطیب المدني في شرح الترمذي ھذا حدیث قوي من حدیث السند وقال المحقق عابد السندھی في طوالع الأنوار رجالہ ثقات نیز اس سلسلہ میں حضرت علی، حضرت انس، حضرت ابوہریرہ اور دیگر صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے مختلف روایتیں آئی ہیں۔

    (۲) قنوت کی روایت عن خالد ابن أبي عمران قال: بینما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدعوا علی مضر إذ جاء ہ جبریل فأومأ إلیہ أن أسکت فسکت فقال یا محمد! إن اللہ لم یبعثک سبابا ولا لعانا وإنما بعثک رحمة ولم یبعثک عذابًا لیس لک من الأمر شيء أو یتوب علیھم أو یعذبھم فإنھم ظالمون قال ثم علمہ ھذا القنوت: اللّھم إنا نستعینک ونستغفرک الخ (إعلاء السنن: ج۶ ۸۹، ط باکستان)

    (۳) سجدہٴ سہو کی حدیث عن ابن عباس رضی اللہ عنہ مرفوعاً: إذا شک أحدکم في صلاتہ فلیتحر الصواب فلیتم علیہ ثم یسلم ثم یسجد سجدتین۱ ص۵۸، بخاری شریف) اور ابوداوٴد شریف میں ہے: عن ثوبان عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: لکل سھو سجدتان بعدما یسلم (أبوداوٴد شریف: ج۱ ص۱۴۹) وفی إعلاء السنن بعد ذکر ھذا الحدیث ولم یضعفہ فھو حدیث حسن (إعلاء السنن: ج۷ص۱۳۳) ۲۰/ رکعت تراویح کا ثبوت مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی اور بیہقی میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے۔ احادیث العشرین رکعة: روی ابن أبي شیبة في مصنفہ والطبراني في معجمہ وعنہ البیہقی من حدیث إبراھیم بن عثمان أبي شیبة عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس رضی اللہ عنہ أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم: کان یصلي في رمضان عشرین رکعةً سوی الوتر (نصب الرایة: ج۲ ص۱۵۳) اور بیہقی میں ہے: عن ابن عباس رضي اللہ عنہ أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلي فی شہر رمضان في غیر جماعة عشرین رکعة والوتر (بیہقي: ج۲ ص۴۹۶) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر کل تیئس رکعت پڑھا کرتے تھے اور اسی پر شرقاً و غرباً امت کا عمل ہے عن یزید بن رومان قال: کان النسا یقومون في زمن عمر بن الخطاب بثلاث وعشرین رکعة رواہ المالک في الموٴطا، ص۴۰۔

    (۵) اس آخر کی تکبیر سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال ارسال فرمائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند