• عقائد و ایمانیات >> فرق ضالہ

    سوال نمبر: 1450

    عنوان:

    آپ دیوبند کے علماء کہتے ہیں کہ انبیاء قبروں میں زندہ ہیں۔ اگر آپ کے پاس مستند دلیل ہے تو بتائیں۔ آپ دیوبند والے دین حق کے ساتھ کھلواڑ کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ حق پر ہیں تو جواب دیں۔

    سوال:

    آپ دیوبند کے علماء کہتے ہیں کہ انبیاء قبروں میں زندہ ہیں۔ اگر آپ کے پاس مستند دلیل ہے تو بتائیں۔ آپ دیوبند والے دین حق کے ساتھ کھلواڑ کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ حق پر ہیں تو جواب دیں۔

    جواب نمبر: 1450

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  313/ن = 313/ن)

     

    علمائے دیوبند ہی کا نہیں بلکہ جماہیر امت محمدیہ کا یہ قول ہے کہ انبیاء علیہم السلام قبروں میں حیات ہیں، یہ حیات حیاتِ برزخیہ ہے اس کی حقیقت کیا ہے یہ حضرت حق تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، قرآن شریف میں ہے: وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ اور جب شہداء کے بارے میں یہ حکم ہے تو انبیاء کا درجہ تو شہداء سے بھی بڑھا ہوا ہے، امام سیوطی علیہ الرحمہ الحاوی للفتاوی میں اس آیت کے لکھنے کے بعد لکھتے ہیں: والأنبیاء أولی بذلك فھم أجل و أعظم وما نبي إلا وقد جمع مع النبوّة وصف الشھادة فیدخلون في عموم لفظ الآیة (الحاوي للفتاوی: 2/148، ط بیروت) اور اس سے پہلے لکھتے ہیں: فأقول: حیاة النبي صلی اللہ علیہ وسلم في قبرہ ھو وسائر الأنبیاء معلومة عندنا علماً قطعیا لما قام عندنا من الأدلة في ذلك وتواترت بہ الأخبار وقد ألف البیہقي جزء في حیاة الأنبیاء في قبورھم فمن الأخبار الدالة علی ذلک ما أخرجہ مسلم عن أنس أن النبي صلی اللہ عیلہ وسلم لیلة أسري بہ مر بموسی علیہ السلام وھو یصلي في قبرہ? والبیھقي في کتاب حیاة الأنبیاء عن أنس أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: الأنبیاء أحیاء في قبورھم یصلون وأخرج أبونعیم في الحلیة عن یوسف بن عطیة قال سمعت ثابتا البناني، یقول لحمید الطویل هل بلغك أن أحدا یصلي في قبرہ إلا الأنبیاء قال لا. وأخرج أبوداوٴد و البیھقي إلی قولہ علیہ السلام إن اللہ حرم علی الأرض أن تأکل أجسام الأنبیاء وأخرج البیھقي في شعب الإیمان. والأصبهاني في الترغیب عن أبي هریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ?من صلی علي عند قبري سمعتہ ومن صلی علي نائیا بلغتہ? (الحاوي للفتاوی: 2/147) اس کے علاوہ اور بھی دلائل سے اس کو ثابت کیا ہے، اگر تفصیل کی ضرورت ہو تو اس کا مطالعہ کرلیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند