عبادات >> احکام میت
سوال نمبر: 609636
میت کو پلنگ پر لٹانے کے لیے چٹائی بچھانا
سوال : محترم مفتی صاحب خیریت سے ہوں گے ۔ بعد از سلام مسنون عرض ہے کہ ہمارے ہاں کرنا ٹک میں میت کو لٹانے کے لئے پلنگ میں چٹائی بچھا ئی جاتی ہے اور اس پر میت کو لٹاتے ہیں نماز جنازہ اور تدفین کے بعد اس چٹائی کو وارث چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔اورمسجد کمیٹی بھی اسے استعمال نہیں کرتی۔اب اس صورت میں اس چٹائی کا استعمال مدرسہ یا مکتب میں لانا جاء ں ز ہے۔یا نہیں؟فقہی دلائل کے ساتھ بیان فرمائیں۔عند اللہ ماجور ہوں گے۔
جواب نمبر: 609636
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 747-553/L=07/1443
میت کو لٹانے سے پہلے پلنگ پر چٹائی بچھانا کوئی شرعی چیز نہیں ہے گردو غبار سے کفن محفوظ رہے یا پلنگ کے ناپاک ہونے کے احتمال سے چٹائی بچھالینے میں حرج نہیں۔
مسجد میں یہ چٹائی استعمال نہ کی جائے مدرسہ یا مکتب میں اس کا استعمال مالک کی اجازت سے کر سکتے ہیں اسی طرح اگر مالک کی اجازت ہوتو غریب شخص لے جاکر اپنے استعمال میں لاسکتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند