• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 606045

    عنوان:

    قبرستان میں نماز جنازہ کے لیے پکی چھت بنانا ۔اور راستہ پر نمازِجنازہ پڑھنا

    سوال:

    قبرستان کی زمیں پر ایک حصہ میں جہاں بیس سال سے ابھی تک کوئی میت دفنائی نہیں کی گئی پہلے دفنائی گئی ہیں ایسی جگہ پر چھت بنا کر نماز جنازہ پڑھنے کے لیے جگہ مخصوص کرنا کیسا ہے جائز ہے یا نہیں؟ اور چھت جو بنانی ہے وہ پکی بنانی ہے اس کے بعد کسی کو وہاں دفن نہیں کیا جائیگا ۔یہ مسئلہ پوچھنے کی وجہ بھی یہ ہوئی کہ کچھ دن پہلے قبرستان کے ٹرسٹی احباب نے مشورہ کرکے یہ کام شروع کیا تو بریلوی حضرات کو پتہ چلا تو انہوں نے اسے روک دیا اور کہنے لگے ایک تو یہاں میت دفن ہے ۔دوسرا کہ قبرستان میں جگہ کم ہے ۔یہ بالکل جائز نہیں ہے یہ کہہ کر کام روک دیا ۔اسی بارے میں پوچھنا تھا ۔

    2)عام راستہ پر جنازہ کی نماز پڑھنا کیسا ہے ۔کیونکہ نمازِجنازہ کے لیے کوئی جگہ الگ سے نہیں ہے تو جب بھی کوئی جنازہ آتا ہے تو راستہ بند کر کے نماز پڑھی جاتی ہے ۔اگر لوگ کم ہوں تو ایک جانب سے گزرنے والوں کو جگہ بنا دیتے ہیں۔

    جواب نمبر: 606045

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:67-64/N=2/1443

     (۱):موقوفہ قبرستان تدفین اموات کے لیے وقف ہوتا ہے، اس کے کسی حصہ کو جنازہ گاہ بنانادرست نہیں اگرچہ چھت ڈال کر ہو؛ لہٰذا ذمہ داران کو چاہیے کہ قبرستان کے کسی حصہ کو چھت ڈال کر بھی جنازہ گاہ نہ بنائیں؛ بلکہ بستی کے سب حضرات حسب استطاعت چندہ دے کر قبرستان کے قریب کوئی زمین خریدکر جنازہ گاہ کے لیے وقف کردیں اور وہاں نماز جنازہ ادا کی جائے۔

    قد تقرر عند الفقہاء أن مراعاة غرض الواقفین واجبة و أن نص الواقف کنص الشارع، کذا في عامة کتب الفقہ والفتاوی۔

    مستفاد:البقعة الموقوفة علی جھة إذا بنی رجل فیھا بناء ووقفھا علی تلک الجھة یجوز بلا خلاف تبعاً لھا، فإن وقفھا علی جھة أخری، اختلفوا في جوازہ، والأصح أنہ لا یجوز کذا في الغیاثیة۔ (الفتاوی الھندیة، کتاب الوقف، ۲: ۳۶۲،ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔

    وإن اختلف أحدھما بأن بنی رجلان مسجدین أو رجل مسجداً ومدرسة ووقف علیھما أوقافاً لا یجوز لہ ذلک۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الوقف، ۶: ۵۵۱،ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    قال الخیر الرملي: أقول: ومن اختلاف الجھة ما إذا کان الوقف منزلین أحدھما للسکنی والآخر للاستغلال، فلا یصرف أحدھما إلی الآخر، وھي واقعة الفتوی اھ۔ (رد المحتار ۶: ۵۵۱)۔

    (۲): عام راستہ پر نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے بالخصوص جب کہ گذرنے والوں کا راستہ بالکل بند ہوجائے؛ اور اگر نماز جنازہ کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں ہے تو اہل بستی کو چاہیے کہ باہمی چندے سے مستقل جنازہ گاہ کا انتظام کریں۔

    وتکرہ أیضاً في الشارع وأرض الناس کما في الفتاوی الھندیة (کتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة علی المیت، ۱: ۱۶۵، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر) عن المضمرات (۲: ۲۷۵، ط: دار الکتب العلمیة، بیروت) (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۲۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۵: ۳۰۳، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند