• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 604497

    عنوان:

    میت کی غائبانہ نماز پڑھنا؟

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ کوڈ- 19 میں ایک مریض کاانتقال ہو گیا تھا اور ہسپتال کے ذمہ داران نے لاش نہیں دی اور میت کو دفنا دیا اور میت کے گھر والوں اور رشتہ داروں نے میت کی غائبانہ نماز ادا کرلی توکیا اس صورت میں غائبانہ نماز جنازہ صحیح ہوگی یا نہیں؟ حلانکہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمةاللہ کے نزدیک غائبانہ نماز جنازہ صحیح نہیں ہے۔ تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 604497

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 767-104T/M=10/1442

     احناف کے یہاں غائبانہ نماز جنازہ مشروع نہیں ہے۔ میت کے گھر والوں اور رشتہ داروں کو غائبانہ نماز نہیں پڑھنی چاہئے تھی، اگر میت کو بغیر نماز جنازہ پڑھے دفن کردیا گیا ہو تو اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے جب تک کہ اس کی لاش پھٹنے کا اندیشہ نہ ہو، اگر لاش پھٹ جانے کا گمان غالب ہو تو پھر قبر پر بھی اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، اور لاش کے پھٹنے کی مدت، مقام اور موسم کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند