• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 601163

    عنوان:
    عورت کو کفن پہنانے کا طریقہ كیا ہے ؟

    سوال:

    سینہ بند قمیض کے اوپر آتا ہے یا اِزار کے یا قمیض کے نیچے عورت کے جنازے کے کپڑوں کی صحی ترتیب کیا ہے ۲. جب کہا جاتا کہ میت کو نیچے رکھنے سے پہلے قبرستان میں نہیں بیٹھنا چاہئے تو اس نیچے رکھنے سے مراد جنازے کی چارپائی کو کاندھوں پر سے زمین پر نیچے رکھنا مُراد ہے یا میت کو قبر میں رکھنا۔

    ۳۔.جو منہ دھنک کر نماز پڑھنے کی مکروہات ہے اُسّے کیا مُراد ہے اور کیا ایسے نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ اکثر سردی میں جب چادر یا مفلر پہنتے ہیں تو اُسّے ناک کا نیچے کا حصہ اور نیچے کا منہ ڈھکا ہوتا ہے مہربانی کر کہ تفصیل کے ساتھ جواب دے خاص کر تیسرے سوال کی تفصیل سے وضاحت کریں۔

    جواب نمبر: 601163

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 210-47T/D=04/1442

     عورت کو کفن پہنانے کا طریقہ یہ ہے کہ سوکھی جگہ پر اس ترتیب سے کفن کے کپڑے بچھا لیے جائیں۔ لفافہ بچھا کر اس پر سینہ بند اور اس پر ازار بچھاوٴ پھر قمیص کا نچلا حصہ بچھاوٴ اور اوپر کا باقی حصہ سمیٹ کر سرہانے کی طرف رکھ دو۔

    پھر میت کو اٹھا کر اس بچھے ہوئے کفن پر لٹا دو اور قمیص کا جو نصف حصہ سرہانے کی طرف تھا اسے سر کی طرف اُلٹ دو کہ قمیص کا سوراخ (گریبان) گلے میں آجائے اور نیچے کی طرف کھینچ دو پھر سر بند یعنی اوڑھنی سر پر اور بالوں پر ڈال دو اس کے بعد میت کے اوپر ازار اس طرح لپیٹو کہ بایاں پلّہ (کنارہ) نیچے اور دایاں اوپر رہے سربند اس کے اندر آجائے گا اس کے بعد سینہ بند سینہ کے اوپر بغلوں سے نکال کر گھٹنوں تک دائیں بائیں سے باندھو پھر لفافہ اس طرح لپیٹو کہ بایاں پلّہ نیچے اور دایاں پلّہ اوپر رہے۔

    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ”سینہ بند“ ازار کے اوپر اور لفافہ کے نیچے آئے گا۔

    (۲) جنازہ کو کندھے سے زمین پر رکھنا مراد ہے یعنی جب جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے تب لوگوں کو بیٹھنا چاہئے اس سے پہلے بیٹھنا مکروہ ہے، قبر میں رکھنا مراد نہیں ہے۔

    قال فی المراقی: ویکرہ الجلوس قبل وضعہا۔ لقولہ علیہ السلام: من تبع الجنازة فلا یجلس حتی توضع ۔

    قال الطحطاوی: قبل وضعہا ای عن اعناق الرجال ۔ حاشیة طحطاوی علی المراقی، ص: ۶۰۷ ۔

    (۳) ناک اور منہ ڈھاک کر نماز پڑھنا مکروہ ہے لہٰذا مفلر یا رومال اس طرح نہ باندھا جائے ۔

    قال فی المراقی: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن السدل ، وأن یغطي الرجل فاہ فیکرہ التلثم وتغطیة الأنف، والفم في الصلاة لأنہ یشبہ فعل المجوس حال عبادتہم النیران ۔

    قال الطحطاوی: اللثام ما کان علی الفم من النقاب، واللقام ما کان علی أرنبة الأنف الخ (حاشیة الطحطاوی علی المراقی، ص: ۳۵۰)

    کرونا کے خطرات کے پیش نظر ماسک پہننے کی گنجائش بربنائے حفظان صحت ہے۔ ورنہ اس کا حکم بھی کراہت کا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند