• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 2918

    عنوان:

    ایک مردہ کو دفن کرنے کے بعد کتنی دیر قبرستان میں ٹھہرنا چاہئے؟ (۲) میں نے کسی کتاب میں پڑھاہے کہ اونٹ کو ذبح کرنے اور اس کا گوشت تقسیم کرنے کی مقدار ٹھہرنا چاہئے، کیا یہ بات درست ہے؟ (۳) ہمارے یہاں یہ عام دستور ہے کہ مردہ کا صرف چہرہ قبلہ رو کر دیتے ہیں جبکہ میں نے ایک جگہ پڑھا ہے کہ اس کے پورے بدن کو قبلہ رو کرنا چاہئے ، کیا یہ درست ہے؟ اور مردہ کو قبلہ رو کرنے کی کیا صورت اختیار کی جائے؟ کیا اس کی جانب کچھ مٹی وغیرہ زیادہ ڈالی جائے؟ براہ کرم، ان تمام سوالوں کا جواب دیں۔

    سوال:

    ایک مردہ کو دفن کرنے کے بعد کتنی دیر قبرستان میں ٹھہرنا چاہئے؟ (۲) میں نے کسی کتاب میں پڑھاہے کہ اونٹ کو ذبح کرنے اور اس کا گوشت تقسیم کرنے کی مقدار ٹھہرنا چاہئے، کیا یہ بات درست ہے؟ (۳) ہمارے یہاں یہ عام دستور ہے کہ مردہ کا صرف چہرہ قبلہ رو کر دیتے ہیں جبکہ میں نے ایک جگہ پڑھا ہے کہ اس کے پورے بدن کو قبلہ رو کرنا چاہئے ، کیا یہ درست ہے؟ اور مردہ کو قبلہ رو کرنے کی کیا صورت اختیار کی جائے؟ کیا اس کی جانب کچھ مٹی وغیرہ زیادہ ڈالی جائے؟ براہ کرم، ان تمام سوالوں کا جواب دیں۔

    جواب نمبر: 2918

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 181/ د= 153/ د

     

    دفن کے بعد تھوڑی دیر قبر کے پاس کھڑے ہوکر میت کے منکر نکیر کے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا ء کرنا مستحب ہے، اس طرح کچھ دیر ٹھہرکر دعائے مغفرت کرنا یا قرآن شریف پڑھ کر ثواب پہنچانا مستحب ہے۔

    (۲) مذکور فی السوال بات عالمگیری میں جوہر نیرہ کے حوالہ سے لکھی ہے (عالمگیری: ج۱ ص۱۶۶) ویوضع في القبر علی جنبہ الأیمن مستقبل القبلة (ج۱ ص۱۶۶) یا تو دویوار کا سہارا دیدیا جائے یا مٹی کے بڑے ڈھیلے وغیرہ رکھ کر ٹیک دیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند