• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 28514

    عنوان: اہل سنت مسلکِ دیوبند سے تعلق رکھنے والے علماء نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے قائل نہیں ہیں۔ جو حضرات اس کے قائل ہیں ان کی ایک کتاب پڑھی۔ کتاب پڑھنے کے بعد چند اشکالات میرے ذہن میں آئے۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان کا نمبر وار جواب مرحمت فرمائیں۔ (نمبر 1)پارہ نمبر 2، سورہ البقرہ، آیت 186، میں اذا کا لفظ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا مانگنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے جب بھی مانگیں درست ہے خواہ نماز جنازہ کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ (نمبر 2)نماز جنازہ فرض ہے، اگرچہ فرض کفایہ ہی صحیح۔ مگر احادیث میں ہے کہ فرض نماز کے بعد دعا قبول ہوتی ہے۔ لحاظہ جب حضور سے پوچھا گیا کہ "ای الدعاء اسمع" یعنی کون سی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے تو آپ صلّی اللّہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ " جوف اللیل الآخر و دہر الصلوٰت المکتوبات" ۔ مذکورہ حدیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا کہ نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا اچھا عمل ہے ? (نمبر 3)حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جب کسی مسلمان کے جنازے میں چالیس آدمی شریک ہوکر دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالٰی اس کو بخش دیتا ہے ( رواہ مسلم و ابو داود، مشکوٰة شریف صفحہ 386)۔ یہ حدیث مبارکہ دعا بعد از جنازہ کی دلیل ہے۔ (نمبر 4)حضرت مستطل بن حصین سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھ کر میت کے لئے دعا فرمائی۔ (رواہ البیہقی) (نمبر 5)حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ کے بعد پہنچے تو صحابہ نے اب کی نماز جنازہ پڑھ لی تھی۔ آپ نے فرمایا " اگر تم نے مجھ سے نماز میں سبقت کی ہے تو دعا سے سبقت نہ کرو۔ (کذا فی المبسوط جلد 2، صفحہ 77) آپ سے یہ بھی گزارش ہے کہ آپ حضرات مسئلہ ہٰذا میں اپنے موقف کو بھی دلائل کے ساتھ واضح کیجئیے۔ اللہ تعالٰی جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین۔

    سوال: اہل سنت مسلکِ دیوبند سے تعلق رکھنے والے علماء نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے قائل نہیں ہیں۔ جو حضرات اس کے قائل ہیں ان کی ایک کتاب پڑھی۔ کتاب پڑھنے کے بعد چند اشکالات میرے ذہن میں آئے۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان کا نمبر وار جواب مرحمت فرمائیں۔ (نمبر 1)پارہ نمبر 2، سورہ البقرہ، آیت 186، میں اذا کا لفظ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا مانگنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے جب بھی مانگیں درست ہے خواہ نماز جنازہ کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ (نمبر 2)نماز جنازہ فرض ہے، اگرچہ فرض کفایہ ہی صحیح۔ مگر احادیث میں ہے کہ فرض نماز کے بعد دعا قبول ہوتی ہے۔ لحاظہ جب حضور سے پوچھا گیا کہ "ای الدعاء اسمع" یعنی کون سی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے تو آپ صلّی اللّہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ " جوف اللیل الآخر و دہر الصلوٰت المکتوبات" ۔ مذکورہ حدیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا کہ نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا اچھا عمل ہے ? (نمبر 3)حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جب کسی مسلمان کے جنازے میں چالیس آدمی شریک ہوکر دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالٰی اس کو بخش دیتا ہے ( رواہ مسلم و ابو داود، مشکوٰة شریف صفحہ 386)۔ یہ حدیث مبارکہ دعا بعد از جنازہ کی دلیل ہے۔ (نمبر 4)حضرت مستطل بن حصین سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھ کر میت کے لئے دعا فرمائی۔ (رواہ البیہقی) (نمبر 5)حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ کے بعد پہنچے تو صحابہ نے اب کی نماز جنازہ پڑھ لی تھی۔ آپ نے فرمایا " اگر تم نے مجھ سے نماز میں سبقت کی ہے تو دعا سے سبقت نہ کرو۔ (کذا فی المبسوط جلد 2، صفحہ 77) آپ سے یہ بھی گزارش ہے کہ آپ حضرات مسئلہ ہٰذا میں اپنے موقف کو بھی دلائل کے ساتھ واضح کیجئیے۔ اللہ تعالٰی جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین۔

    جواب نمبر: 28514

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 79=65-1/1432

    جو کتاب پڑھ کر آپ کے ذہن میں اشکالات ابھرے افسوس ہے کہ وہ کتاب ہمارے سامنے نہیں ہے اور آپ نے اس کتاب کا نام لکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں فرمائی ہے، اہل حق اہل سنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ نمازِ جنازہ بذاتِ خود دعا ہے اور بعد نماز جنازہ مستقلاً دعا کرنا منقول وماثور نہیں، فتاویٰ محمودیہ اور فتاویٰ رحیمیہ متداول ہیں، آپ کے یہاں بھی دستیاب ہیں، دونوں میں اطمینان سے مسئلہ ہذا کی بحث اور دلائل کا مطالعہ فرمالیں، پھر جو اشکال رہے اس کو بحوالہ لکھیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند