• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 26878

    عنوان: (۱) اگر کوئی بندہ فوت ہوجاتاہے تو اکثر لوگ خیرات کرتے ہیں جیسے گاؤ، بکری یا بھینس ذبح کرتے ہیں اور پکاکر لوگوں کوکھلاتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ وہ ہم غریب لوگوں کو دیتے ہیں مگر ان میں اکثریت محلے والوں کی ہوتی ہے ، سوال یہ ہے کہ کی تدفین کے بعدخیرات وغیرہ جائز ہے؟
    (۲) دوسرا سوال یہ ہے کہ انتقال کے بعدپہلاجمعہ ہے، یا دوسرا جمعہ ، یا تیسرا جمعہ ہے تو اس دن وہ لوگ خیرات کرتے ہیں یا کچھ پکاتے ہیں تو کیا یہ جائزہے کیوں کہ اسلام میں نیکی کا کوئی دن مقرر نہیں کیا جاتاہے؟
    (۳) جب میت کے لیے قرآن خوانی کرواتے ہیں ایصال ثواب کے لیے تو جو لوگ آتے ہیں تو ا ن کو اس لیے کھانا کھلایا جاتاہے کہ اس کا ثواب میت کے ملے گا یا کوئی رواج ہے یا پھر کیا ہے کہ جب بھی قرآن خوانی ہوتی ہے تو اس کے بعد کھانا ضرور دیا جاتاہے؟ براہ کرم، ان سوالات پر تفیل سے روشنی ڈالیں۔

    سوال: (۱) اگر کوئی بندہ فوت ہوجاتاہے تو اکثر لوگ خیرات کرتے ہیں جیسے گاؤ، بکری یا بھینس ذبح کرتے ہیں اور پکاکر لوگوں کوکھلاتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ وہ ہم غریب لوگوں کو دیتے ہیں مگر ان میں اکثریت محلے والوں کی ہوتی ہے ، سوال یہ ہے کہ کی تدفین کے بعدخیرات وغیرہ جائز ہے؟
    (۲) دوسرا سوال یہ ہے کہ انتقال کے بعدپہلاجمعہ ہے، یا دوسرا جمعہ ، یا تیسرا جمعہ ہے تو اس دن وہ لوگ خیرات کرتے ہیں یا کچھ پکاتے ہیں تو کیا یہ جائزہے کیوں کہ اسلام میں نیکی کا کوئی دن مقرر نہیں کیا (۳) جب میت کے لیے قرآن خوانی کرواتے ہیں ایصال ثواب کے لیے تو جو لوگ آتے ہیں تو ا ن کو اس لیے کھانا کھلایا جاتاہے کہ اس کا ثواب میت کے ملے گا یا کوئی رواج ہے یا پھر کیا ہے کہ جب بھی قرآن خوانی ہوتی ہے تو اس کے بعد کھانا ضرور دیا جاتاہے؟ براہ کرم، ان سوالات پر تفیل سے روشنی ڈالیں۔

    جاتاہے؟

    جواب نمبر: 26878

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1709=481-11/1431

    (۱) میت کو دفنانے کے متصلاً بعد یا کوئی خاص دن میں دعوت کرنا صحیح نہیں، ہاں بغیر کسی دن کی تعیین اگر کچھ پکاکر فقرا مساکین وغیرہ کو کھلاکر اس کا ثواب میت کو پہنچادیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ واضح رہے اس کھانے کے مستحق فقراء ومساکین وغیرہ ہیں، مالداروں کو ایسے کھانے میں شرکت نہ کرنی چاہیے۔
    (۲) ایصال ثواب کے لیے دن کی تعیین ثابت نہیں، یہ بدعت ہے۔
    (۳) قرآن خوانی کے لیے لوگوں کو جمع کرنا، کھانے وغیرہ کا انتظام کرنا، جائز نہیں۔ کما فی الشامی


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند