• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 22742

    عنوان: (۱) قبرستان میں جگہ۔ ایک مردہ دفن ہے، وہاں پر دوسرے یا تیسرے کو دفنا نا شریعت کے مطابق صحیح ہے؟ (۲) جگہ نہ ہونے کی صورت میں وہاں پر زمین جو بلا استعمال زمین میں سے ہے اورابھی کوئی کام میں نہیں آرہی ہے ، کیا اسے قبرستان میں شامل کرنا صحیح ہے؟(ذہن نشین رہے کہ جو زمین غیر مستعمل ہے وہ ایک زمانہ میں خانقاہ کی حوض کی حیثیت رکھتی تھی ، قبرستان ، زمین وغیرہ وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے)

    سوال: (۱) قبرستان میں جگہ۔ ایک مردہ دفن ہے، وہاں پر دوسرے یا تیسرے کو دفنا نا شریعت کے مطابق صحیح ہے؟ (۲) جگہ نہ ہونے کی صورت میں وہاں پر زمین جو بلا استعمال زمین میں سے ہے اورابھی کوئی کام میں نہیں آرہی ہے ، کیا اسے قبرستان میں شامل کرنا صحیح ہے؟(ذہن نشین رہے کہ جو زمین غیر مستعمل ہے وہ ایک زمانہ میں خانقاہ کی حوض کی حیثیت رکھتی تھی ، قبرستان ، زمین وغیرہ وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے)

    جواب نمبر: 22742

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 1700=1700-1/1432

    (۱) اگر پہلی قبر بہت پرانی اور بوسیدہ ہوگئی ہو اور مردے کی ہڈی وغیرہ مٹی بن چکی ہو تو بوقت ضرورت اس میں دوسرے یا تیسرے کو دفنانے کی گنجائش ہے۔ 
    (۲) جو زمین غیرمستعمل پڑی ہوئی ہے وہ خانقاہ کے لیے وقف تھی یا نہیں؟ اگر وقف ہے تو فی الحال اور آئندہ اپنے وقف میں استعمال ہونے کی امید ہے یا ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہے؟ مقامی علمائے کرام کا اس بارے میں بیان کیا ہے؟ ان امور کی وضاحت کے ساتھ استفتاء کیجیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند