• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 19113

    عنوان:

    ایک شخص اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچاسکتا ہے

    سوال:

    جب میں کوئی اچھا کام کرتا ہوں یا خاص عبادت کرتا ہوں یا روزہ رکھتا ہوں یا اللہ کے راستہ میں چند روز کے لیے جاتا ہوں یا کلمہ پڑھتا ہوں تو کیا میں اس میں سے اپنی بیوی کو پچاس فیصد حصہ دے سکتا ہوں یا میرے تمام اچھے کام کا ثواب خود بخود میری بیوی کو پہونچے گا یا مجھ کو اللہ سے اس کے لیے دعا کرنی ہوگی؟ یا اس کا دوسرا راستہ کیا ہے؟ برائے کرم وضاحت فرماویں۔

    جواب نمبر: 19113

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 160=160-2/1431

     

    اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایک شخص اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچاسکتا ہے۔ اور اس میں زندہ اور مردہ ہونے میں کوئی فرق نہیں دونوں کے لیے یکساں حکم ہے، لہٰذا آپ اپنے نیک اعمال روزہ، نماز، تلاوت وغیرہ کا ثواب اپنی بیوی کو پہنچاسکتے ہیں، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً تلاوت کرنے کے بعد یہ دعا کریں کہ اے اللہ اس تلاوت کا اجر وثواب میری بیوی کو عطا کردے: من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الأموات والأحیاء جاز، ویصل ثوابہا إلیہم عند أہل السنة والجماعة وبہذا علم أنہ لا فرق بین أن یکون المجعول لہ بیتًا أو حیًّا․․ الخ ویقرأ یسین ․․․ ثم یقول اللہ أوصل ثواب ما قرأناہ إلی فلان إلخ (شامي)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند