• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 179791

    عنوان:

    ایک شہر سے دوسرے شہر میں میت کو منتقل کرنے کا حکم

    سوال:

    شرعاً تدفین سے پہلے میت (مردہ جسم) کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا کیا حکم ہے ؟ ہمارے نانی کا انتقال انکے آبائی شہر نندوربار سے تقریباً 55 کلومیٹر دور نواپور شھر میں ہوا۔ تاحیات سینکڑوں مرتبہ نانی نے تمام رشتہ داروں کو اس بات کی زبانی وصیت کی تھی کہ جہاں پر بھی انکا انتقال ہو انہیں نندوربار شھر میں ہی دفن کیا جائے ۔ کیا اس طرح کی وصیت معتبر ہوتی ہے ؟ اور کیا میت کو اس طرح تدفین کے لئے ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جایا جا سکتا ہے ۔ شریعت میں اس طرح کے معاملے کا کیا حکم ہے ؟ نوٹ : نواپور شھر کے ایک مقامی مولوی صاحب سے مسئلہ پوچھنے پر انھوں نے یہ جواب دیا کہ میت کو ۱یا ۲میل سے زیادہ دور لے جانا شرعاً جائز نہیں ہے لہٰذا میت کو اسی شہر میں دفن کیا جائے دوسرے شہر نہ لے جایا جائے ۔ کیا ان مولوی صاحب کا یہ جواب درست ہے ؟ اگر نہیں تو درست جواب ارسال فرمائیں۔

    جواب نمبر: 179791

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:9-9T/sn=2/1442

     مولوی صاحب نے جو مسئلہ بتلایا وہ درست ہے ، راجح قول کے مطابق میل دو میل سے زیادہ میت کو منتقل کرنا شرعا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے ، فتاوی دارالعلوم (5/378،سوال:3008،مطبوعہ:مکتبہ دارالعلوم دیوبند) بہشتی زیور اختری (11/102)وغیرہ میں بھی اس کی تصریح کی گئی ہے ۔رہی یہ وصیت کہ مجھے فلاں جگہ یا فلاں شہر میں دفن کیا جائے تو شرعا اس طرح کی وصیت غیر معتبر ہے ، ورثا کے لیے اس پر عمل درآمدکرنا ضروری نہیں ہے ؛ بلکہ شرعی مانع موجود ہونے کی صورت میں جیساکہ صورت مسئولہ میں ہے درست ہی نہیں ہے ۔

    ویستحب فی القتیل والمیت دفنُہ فی المکان الذی مات فیہ فی مقابر أولئک القوم، وإن نقل قبل الدفن قدر میل أو میلین فلا بأس بہ، قیل: ہذا التقدیر من مُحَمّد یدل علی أن نقلہ من بلد إلی بلد مکروہ ؛لأن مقابر بعض البلدان ربما بلغت ہذہ المسافة، ففیہ ضرورة، ولا ضرورة فی النقل إلی بلد آخر، وقیل: یجوز ذلک مادون السفر لما روی أن سعد بن أبی وقاص مات فی قریة علی أربعة فراسخ من المدینة، فحمل علی أعناق الرجال إلیہا․ (غنیة المتملی،608،مطبوعة:مکتبة سہیل،لاہور)

    ولا بأس بنقلہ قبل دفنہ (الدر المختار) (قولہ ولا بأس بنقلہ قبل دفنہ) قیل مطلقا، وقیل إلی ما دون مدة السفر، وقیدہ محمد بقدر میل أو میلین لأن مقابر البلد ربما بلغت ہذہ المسافة فیکرہ فیما زاد. قال فی النہر عن عقد الفرائد: وہو الظاہر اہ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 3/ 146،، مطبوعة: مکتبة زکریا ، دیوبند)

    أوصی بأن یصلی علیہ فلان أو یحمل بعد موتہ إلی بلد آخر أو یکفن فی ثوب کذا أو یطین قبرہ أو یضرب علی قبرہ قبة أو لمن یقرأ عند قبرہ شیئا معینا فہی باطلة سراجیة وسنحققہ.[الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 10/ 361، کتاب الوصیة، مطبوعة: مکتبة زکریا ، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند