• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 605335

    عنوان:

    آیات جہاد كو مروجہ دعوت وتبلیغ پر منطبق كرنا اور بعض آیتوں سے عمومی وخصوصی ملاقات وغیرہ كو ثابت كرنا؟

    سوال:

    السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

    امید ہے کہ حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم بخیر و عافیت ہوں۔

    عرض یہ ہے کہ آج کل یہ بات کثرت سے دیکھنے میں آرہی ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات کریمہ کو مروجہ تبلیغ میں چسپاں کیا جارہا ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ ان آیات سے یہی تبلیغ مراد ہے جیسے کہ:

    (۱) وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (121) آل عمران۔

    (۲) انْفِرُوْا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (41) التوبة۔

    (۳) وَعَلٰی الثَّلَاثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا حَتَّی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوْا اَنْ لَا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوْبُوْا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (118) التوبة۔

    اور سورہ نوح کی بعض آیتوں سے عمومی ملاقات خصوصی ملاقات وغیرہ ثابت کیا جارہا ہے۔

    کیا اس طرح ان آیتوں سے مروجہ تبلیغ کو ثابت کرنا درست ہے۔

    برائے مہربانی اصول تفسیر کی روشنی میں جواب مرحمت فرماکر ممنون و مشکور ہوں۔

    جواب نمبر: 605335

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 902-112T/B=10/1442

     سیاق و سباق سے جو آیت جہاد سے متعلق ہے اسے مروجہ دعوت و تبلیغ پر چسپاں کرنا درست نہیں۔ دعوت و تبلیغ کے فضائل کے لئے بیشمار حدیثیں موجود ہیں انھیں بیان کرنا چاہئے۔ جماعت میں نکل کر جو عمومی یا خصوصی ملاقات کا رواج ہے یہ جماعت والوں نے کام کی افادیت کے لئے نکالا ہے۔ قرآن کی آیات کو اس پر منطبق کرنا درست نہیں۔ کام اعتدال کے ساتھ کرنا چاہئے، غلو نہ کرنا چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند