• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 604988

    عنوان:

    بیوی بچوں کو چھوڑ کر چار مہینے کے لئے بیرون کی جماعت میں جانا

    سوال:

    میں گورمنٹ گراننزٹیڈ پرائیویٹ ہائی اسکول میں ٹیچر ہوں۔میں چار مہینے کی بیرون جماعت میں جانا چاہتا ہوں ۔گرچہ کہ میرے پاس چٹھیاں بیلینس نہیں ہیں۔اگر میں گیا تو مجھے ان چار مہینے کی تنخواہ بھی نہیں ملے گی۔انتظامیہ نے اگر کوی عارضی ٹیچر رکھا تو انتظامیہ پر میری وجہ سے اس ٹیچر کی تنخواہ کی اضافی بوجھ آئے گا اور عارضی ٹیچر کو رکھنے اور میرے آنے پر اسکو ہٹا دئے جانے سے بچوں کا تعلیمی تسلسل متاثر ہوگا۔ تو کیا دینی نقطہ نگاہ سے میرا اپنے فرائض منصبی کو چھوڑ کر چار مہینے کی بیرون جماعت میں جانا سہہی ہوگا؟

    جواب نمبر: 604988

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1071-954/B=01/1443

     ایسی حالت میں بیرون ملک میں چار مہینے کے لئے جانا درست نہیں۔ بیوی بچوں کی کفالت، ان کی سرپرستی، ان کی دینی تربیت اور دینی تعلیم کا نظم زیادہ اہم کام ہے، چار مہینے کے لئے جانا ایک امر مستحب ہے۔ آپ ہر ماہ میں تین دن کے لئے چلے جایا کریں، بس اتنا ہی آپ کے لئے کافی ہے۔ اور روزانہ تعلیم و مذاکرہ میں بیٹھ جایا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند