• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 601295

    عنوان:

    علماء كے بیانات پر تبصرہ كرنا ‏، ان كو بے اصل قرار دینا اور اپنے كام كی تعریف كرنا؟

    سوال:

    ایک ساتھی ایک جوڑ میں کہہ رہے تھے کہ بیانات اصل نہیں ہیں اور ساتھیوں کو سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ ہمارا تین دن کا ساتھی جمعہ کے بعد 300 سے 500 مجمعے کو اعلان کرسکتا ہے ( جماعت کے ساتھیوں میں کہتے رہتے ہیں کہ علماء بیان کرتے ہیں، ہم مذاکرہ کرتے ہیں یہ تعریفی کلمہ پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بیانات اصل نہیں ) جبکہ عوام کو خطبات کے ذریعہ حلال و حرام کے مسائل، وراثت، فرائض و واجبات کا علم ملتا ہے، حالات کا علم ہوتا، اور خود وہ ساتھی ایک گھنٹہ دیڑھ گھنٹہ بات کئے اور دوران گفتگو کہہ نے لگے سیرت سے ہم کو یہ سبق ملتا ہے کہ نبی کا خطبہ جمعہ کا مختصر ہوتا تھا آج جمعہ کے خطبات لمبے ہوگئے ہیں میرا سوال ہے کہ یہ بات کہاں تک صحیح ہے کیوں کہ یہ موصوف عربی خطبہ کو اردو خطبہ پر قیاس کررہے ہیں، اور دوسری بات یہ چھ صفات سے ہٹ کر گفتگو ہے یا نہیں، اسی طرح کہنے لگے کہ اللہ کو نقل و حرکت دین کے لئے جتنا محبوب ہے دوسرا اتنا کوئی عمل پسندیدہ نہیں؟

    جواب نمبر: 601295

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 368-304/B=05/1442

     جو لوگ عالم نہیں، انھیں چاہئے کہ حضرت مولانا الیاس رحمہ اللہ کی ہدایت کے مطابق چھ نمبروں کی حدود میں رہ کر باتیں کریں۔ علماء کے بیانات پر تبصرہ کرنا، خطبہ پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں، اپنی تعریف ، اپنے کام کی تعریف کرنا بھی مناسب نہیں۔ بیانات کو بے اصل قرار دینا بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان ہی کے ذریعہ صحابہ کرام کو دین اور دین کے تمام احکام سکھائے اور بتائے۔ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ (قرآن) ۔ روزانہ تبلیغی جماعت بھی مغرب کے بعد بیان کرتی ہے۔ مرکز نظام الدین میں صبح کو بیان ہوتا ہے۔ بڑے اجتماعتات میں مرکز کے لوگ ۳-۳/ گھنٹے بیان کرتے ہیں۔ مذاکرہ کہاں ہوتا ہے۔ دین کی دعوت کاکام اخلاص کے ساتھ کرنا، اور جس قدر کام اللہ تعالی ہم سے لے لے اس پر اللہ کا شکر کرنا چاہئے اور لایعنی اور بیکار باتوں سے تبلیغی ساتھیوں کو احتیاط کرنی چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند