• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 601218

    عنوان:

    مولانا الیاس رح کے ایک ملفوظ سے متعلق وضاحت

    سوال:

    ملفوظات الیاس مرتب :مولانا منظور نعمانی (مطبوعہ الفرقان بک ڈپو نظیرباد لکھنؤ ) صفحہ نمبر 31 / قسط نمبر 2 میں لکھا ہے کہ یہ بھی خیال رہے کہ اپنی اپنی نمازیں پڑھنا ، روزے رکھنا ، اگرچہ اعلی درجے کی عبادتیں ہیں لیکن یہ دین کی نصرت کے کام نہیں ہیں۔ اب آپ بتائیں کہ کیا عبادت کرنا ، نماز پڑھنا اور روزے رکھنا دین کی نصرت نہیں ہے ۔ نیز اس ملفوظ کی کیا تشریح ہوسکتی ہے ؟

    جواب نمبر: 601218

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 348-280/B=04/1442

     حضرت مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ کی کتاب منگواکر پڑھی۔ اس کے آگے چھ باتیں انہوں نے لکھی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کی نصرت صرف تنہا نماز پڑھ لینا یا روزہ رکھ لینا نہیں ہے بلکہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں دوسروں کو بھی نمازی بنائیں اور نماز کی دوسروں میں اشاعت کریں جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں، دوسروں کو بھی روزہ رکھنے والا بنائیں، روزے کو دوسروں میں بھی پھیلائیں، دین پر خود بھی عمل کریں اور اسے دوسروں میں بھی پھیلائیں، یہ اصل دین کی نصرت ہے۔ حضرت کی عبارت میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں معلوم ہوتی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند