• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 59153

    عنوان: کیا لوگوں میں دینی کام کرنے کے جذبات پیدا کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام کے واقعات سے ایسے طریقوں سے استدلال کرنا جائز ہے ؟

    سوال: دارالافتاء دارالعلوم دیوبند سے ایک اہم دینی فتوی پوچھنا چاہتا ہوں.وہ یہ کہ پاکستان سے ایک تبلیغی جماعت برما تشریف لائے تھے .جن میں چند علمائے کرام بھی تھے . ان میں کا ایک عالم جس کے بارے میں سنا گیا کہ وہ پاکستان کے ایک بڑے مدرسہ کے استاذالحدیث ہے .انہوں نے بیان کے بعد لوگوں کو دینی کام میں لگنے کے لئے تشکیل کرتے ہوئے لوگوں کے انشاأللہ کہنے پر یہ کہا کہ "میرے بھائیو!موسی علیہ السلام جیسی انشاأللہ نہ کہو!اسلئے کہ موسی علیہ السلام نے خضر علیہ السلام سے انشاأللہ کہا اور اپنی انشاأللہ کو تین مرتبہ توڑ بیٹھا.ہاں اسماعیل علیہ السلام جیسی انشاأللہ کہنا ہے کیونکہ اسمعیل علیہ السلام نے اپنے والد ابراھیم علیہ السلام سے (ستجدنی انشاأللہ صابرا)انشاأللہ کہا اور اپنی انشاأللہ پر اتنے ڈٹے کہ جان دینے کے لئے تیار ہوگئے . اور ہمارے نبی بھی اسماعیلی ہیں موسوی نہیں ہیں.اسلئے ہمیں چاہیے کہ اسماعیلی انشاأللہ کہیں اور موسوی انشاأللہ نہ کہیں" کیا یہ موسی علیہ السلام کی توہین نہیں ہوئی? کیا لوگوں میں دینی کام کرنے کے جذبات پیدا کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام کے واقعات سے ایسے طریقوں سے استدلال کرنا جائز ہے ؟ اگر یہ بات غلط ہے تو پھر اسکے کہنے والے کے لئے کیا حکم ہے ؟ آپ سے مؤدبانہ اور عاجزانہ درخواست ہے کہ میرے ان سوالات کے تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 59153

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 931/947/L=7/1436-U لوگوں میں دینی کام کے جذبات پیدا کرنے کے لیے انبیاء علیہم السلام کے واقعات سے اس طرح استدلال کرنا جائز نہیں اس میں ایک جلیل القدر پیغمبر کی توہین ہے، حضرت موسی علیہ السلام کا وعدہ کرکے اس پر قائم نہ رہ پانا ان کی مجبوری تھی کیونکہ نبی ظاہر شریعت کا پابند ہوتا ہے کسی منکر کو دیکھ کر خاموش رہنا نبی کے لیے جائز نہیں۔ پھر نبی علیہ السلام کو اسماعیلی کہنا اور موسی کی تردید کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ ہمیں انبیاء کے درمیان تفریق کرنے سے منع کیا گیا ہے لاَ نُفرّقُ بین أحدٍ من رُّسُلِہ نبی علیہ السلام اپنے سے قبل گذرے سارے انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں: بہرحال قائل کو چاہیے کہ صدق دل سے توبہ واستغفار کرے اور آئندہ اس طرح کی باتوں کے کرنے سے احتراز کرے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند