• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 50483

    عنوان: دعوت وتبلیغ

    سوال: کیا فرماتے ہے علماء دین و مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسایل کے بارے میں۔ باجماعت نماز کے فورا بعد مروجہ تبلیغی جماعت کے حضرات کرام اعلان کرتے ہیں کہ دعا کے بعد یا سنت پڑھنے کے بعد ایمان و یقین کی بات ہوگی اپ سب حضرات بیٹھ جایے بہت نفع ہوگا۔ اس وقت بعض لوگوں کی ایک رکعت یا دو یا تین رکعتیں جماعت سے رہ چکی ہوتی ہے اور وہ امام کے سلام کے فورا بعد بقیہ نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تو اس صورت حال میں اعلان کرنا شرعا جایز ہے یا نہیں۔ بعد نماز ظہر تبلیغی جماعت کے حضرات فضایل اعمال سے حدیث اجتماعی حلقہ کو سناتے ہے جو کہ اونچی اواز میں سناتے ہے جبکہ دوسرے طرف کچھ لوگ جماعت سے رہ گیے ہوتے ہیں اور وہ لوگ فرض نماز یا سنتیں پڑھتے ہیں تو اس صورت میں یہ جایز ہے یا نہیں۔

    جواب نمبر: 50483

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 355-311/H=3/1435-U (۱) مختصر سا ضروری اعلان کردینے کی اجازت ہے،جس طرح تبدیلی اوقاتِ نماز، کسی عالم کے بیان، تفسیر قرآنِ کریم وغیرہ جیسے امور کا اعلان عامةً کیا جاتا ہے اِسی طرح تبلیغی جماعت کے بیان کے اعلانِ مختصر کردینے میں مضائقہ نہیں جب عموماً ہرہفتہ یا کم وبیش زمانہ میں ایک جیسا مختصر سا اعلان ہوتا ہے تو مسبوقین کے حق میں عامةً وحشت کا موجب نہیں بنتا، تبلیغی جماعت کے اعلان کے جو الفاظ آپ نے نقل کیے ہیں وہ مختصر اعلان پر ہی مشتمل جچے تلے الفاظ ہیں۔ (۲) جب دوسری طرف کچہ نمازی نماز میں مشغول ہوں تو اتنی اونچی آواز سے فضائل اعمال کو سنانا کہ جس سے دوسری طرف نماز میں مشغول حضرات کی نمازوں میں خلل ہو یہ صورت مکروہ ہے أجمع العلماء سلفا وخلفا علی استحباب ذکر الجماعة فی المساجد وغیرہا إلا أن یشوش جہرہم علی نائم اور مصل أو قارئ اھ (فتاوی شامی، کتاب الصلاة) اور جب کہ بعد نماز ظہر فضائل اعمال کے سننے سنانے کا وقت مقرر ہے تو آنے والے نمازی یا سنت ونوافل پڑھنے والے حضرات شروع ہی سے اس کا لحاظ فرمالیا کریں کہ جس جگہ میں فضائل اعمال پڑھی جاتی ہے اس سے اتنے فاصلہ پر نماز پڑھیں کہ خلل اور تشویش کا اندیشہ نہ ہو تو یہ سب سے بہتر شکل ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند