• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 44183

    عنوان: ہم نے پہلے ایمان سیكھا پھر قرآن سیكھا كا حوالہ مطلوب ہے

    سوال: (۱) کیا التحیات میں بیٹھے ہوئے اپنی زبان میں دعا کی جا سکتی ہے ؟ اگر ہاں تو اسکا طریقہ کیا ہے ؟ (۲) ہماری مسجد میں امام صاحب ہر جمعہ کی نماز کے بعد اجتماعی دعا کراتے ہیں ،کیا یہ درست ہے ؟ (۳) ہمارے تبلیغی بھائی اپنی تقریروں میں اکثر یہ کہتے ہیں کی 'صحابہ فرماتے ہیں کی ہم نے پہلے ایمان سیکھا پھر اسکے بعد قرآن سیکھا ' کیا یہ بات درست ہے ؟ انسے اس بات کا حوالہ مانگو تو وہ غصہ کرتے ہیں اس لئے آپ بتائے کیہ یہ بات کس مستند کتاب میں ہے؟ اور قرآن کے بغیر ایمان کو کیسے اور کہاں سے سیکھا جائے؟

    جواب نمبر: 44183

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 330-372/N=4/1434 (۱) نماز میں عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں دعا نہیں کی جاسکتی، ناجائز ومکروہ تحریمی ہے ، قال في الدر مع الرد ۲/۲۳۳، مکتبة زکریا دیوبند: ودعا بالعربیة، وحرم بغیرہا نہر اھ وفي الرد: ولا یبعد أن یکون الدعاء بالفارسیة مکروہا تحریما في الصلاة... اھ. (۲) اجتماعی دعا کی کیفیت واضح کریں، یعنی: اجتماعی جہراً کرتے ہیں یا سراً؟ نیز یہ دعا فرض جمعہ کے بعد متصلاً ہوتی ہے یا سنن ونوافل سے فراغت کے رعد؟ (۳) جی ہاں! یہ بات صحیح ودرست ہے اور عربی کی مستند ومعتبر کتابوں میں موجود ہے چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ کی التاریخ الکبیر (۲/۲۲۱) میں ہے: عن جندب قال: کنا علی عہد النبي صلی اللہ علیہ وسلم غلماناًا حزاورة تعلمنا الإیمان قبل أن نتعلم القرآن ثم تعلمنا القرآن ازددنا بہ إیمانا، اور حافظ ابن البر رحمہ اللہ کی التمہید (۱۴:۱۳۳) میں ہے: قال حذیفة بن الیمان: تعلمنا الإیمان قبل أن نتعلم القرآن، وسیأتي قوم في آخر الزمان یتعلمون القرآن قبل الإیمان. (۴) ضروریات ایمان واسلام قرآن سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں ہے کہ اس کے لیے قرآن کو چھوڑنا پڑے اور قرآن سیکھنے کا مطلب حفظ قرآن ہے، قرآنی احکام ومطالب کا سیکھنا مراد نہیں ہے کیونکہ صحابہٴ کرام احکام ومطالب قرآن جاننے اور سیکھنے کو حفظ قرآن پر مقدم رکھتے تھے قال ابن عبد البر في التمہید (۱۴: ۱۳۳): وکان الصحابة رضي اللہ عنہم وہم الذین خوطبوا بہذا الخطاب لم یکن منہم من حفظ القرآن کلہ ویکملہ علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلا قلیل منہم أبي بن کعب وزید بن ثابت ومعاذ بن جبل وأبوزید الأنصاري وعبد اللہ بن مسعود، وکلہم کان یقف علی معانیہ ومعاني ما حفظ منہ ویعرف تأویلہ ویحفظ أحکامہ، وربما عرف العارف منہم أحکاما من القرآن کثیرة وہو لم یحفظ سورہا، قال حذیفة بن الیمان... اھ اور ایمان اور ضروریات ایمان کا علم مستند ومعتبر علمائے کرام سے سیکھا جائے اور اخلاص اور ایقان کے لیے متبع شریعت وسنت اور صاحب نسبت بزرگوں کے پاس جایا جائے اور ان سے اصلاحی تعلق قائم کیا جائے اور تبلیغی جماعت میں وقت لگایا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند