• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 37908

    عنوان: دعوت و تبلیغ

    سوال: اکثر تبلیغی جماعت کے بھائیوں کے منہ سے سنا ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک دن لگانا دنیا اور مافیہا سے افضل ہے۔ معارف القرآن کی جلد دوم صفحہ نمبر ۲۷۵ پر حدیث لکھی ہے، مگر اس میں رباط کے لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ کیا یہ وہی حدیث ہے جو تبلیغی جماعت کے بھائی بیان کرتے ہیں ؟

    جواب نمبر: 37908

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 679-322/L=5/1433 ”معارف القرآن“: ۲/۲۷۵ پر جو حدیث مذکور ہے وہ ایک طبی حدیث کا ٹکڑا ہے، پوری حدیث یہ ہے: عن سہل بن سعد الساعدي أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: رباط یومٍ فی سبیل اللہ خیرٌ من الدنیا وما علیہا وموضع سوط أحدکم من الجنة خیرٌ من الدنیا وما علیہا والروحة یروحہا العبد فی سبیل اللہ أو الغدوة خیرٌ من الدنیا وما علیہا (البخاري، باب فضل رباط یوم في سبیل اللہ: ۱/۴۰۰) آپ نے تبلیغی جماعت کے حوالے سے جو حدیث ذکر کی ہے وہ مذکورہ حدیث کے آخر میں بھی ہے اور الگ مستقل حدیث بھی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: عن أنس بن مالک عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: لغدوة في سبیل اللہ أو روحة خیر من الدنیا وما فیہا (البخاري: ۱/۳۹۲) اب اس سلسلے میں عرض ہے کہ جہاد کے ایک تو مخصوص معنی ہیں یعنی اعلاء کلمة اللہ“ کے لیے قتال کرنا، اس معنی کے لحاظ سے حدیث ”لغدوة أو روحة“ میں تبلیغی جماعت کو داخل کرنا درست نہیں، اور جہاد کے دوسرے معنی کوشش کرنا اور ریاضت سے کام لینا ہے، اس معنی کے لحاظ سے مذکورہ حدیث میں اس تحریک کو داخل کرسکتے ہیں۔ (کذا قال ا لمفتی کفایت اللہ في کفایة المفتی: ۲/۱۰، ط، کوہ نور پریس دہلی)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند