• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 15522

    عنوان:

    حضرت ہم لوگ امریکہ میں رہتے ہیں، یہاں مخلوط تعلیمی نظام ہے ہر جگہ، او رہر جگہ نوکری ہو، یا کوئی اور کام ہر جگہ مرد اور عورت سب ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ہم لوگ کس طرح اپنے کام سر انجام دیں؟ میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتاہوں، لیکن مسئلہ و ہی ہے کہ پڑھنے والی لڑکیاں بھی ہیں، جب کہ نظر کی حفاظت بھی ضروری ہے، تو وہ کیسے ہوسکتی ہے جب کہ دوسرا سمجھتا ہے کہ اس میں اعتماد نہیں ہے یا جس سے بات کررہا ہے اس میں کوئی مسئلہ ہے یا خود اس میں کوئی مسئلہ ہے؟ ویسے تو عام مسلمانوں کو اچھی نوکری ملتی نہیں ہے اور اگر مل بھی جائے تو اسے یہیں کی یونیورسٹی سے پڑھنا ہوتا ہے، دین پر چلنے والوں یعنی داڑھی اور ٹوپی کے ساتھ تو تقریباً ناممکن ہی ہے کہ کسی کو یہاں کا تعلیم یافتہ ہونے کے بعد بھی اچھی نوکری مل جائے۔ ....

    سوال:

    حضرت ہم لوگ امریکہ میں رہتے ہیں، یہاں مخلوط تعلیمی نظام ہے ہر جگہ، او رہر جگہ نوکری ہو، یا کوئی اور کام ہر جگہ مرد اور عورت سب ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ہم لوگ کس طرح اپنے کام سر انجام دیں؟ میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتاہوں، لیکن مسئلہ و ہی ہے کہ پڑھنے والی لڑکیاں بھی ہیں، جب کہ نظر کی حفاظت بھی ضروری ہے، تو وہ کیسے ہوسکتی ہے جب کہ دوسرا سمجھتا ہے کہ اس میں اعتماد نہیں ہے یا جس سے بات کررہا ہے اس میں کوئی مسئلہ ہے یا خود اس میں کوئی مسئلہ ہے؟ ویسے تو عام مسلمانوں کو اچھی نوکری ملتی نہیں ہے اور اگر مل بھی جائے تو اسے یہیں کی یونیورسٹی سے پڑھنا ہوتا ہے، دین پر چلنے والوں یعنی داڑھی اور ٹوپی کے ساتھ تو تقریباً ناممکن ہی ہے کہ کسی کو یہاں کا تعلیم یافتہ ہونے کے بعد بھی اچھی نوکری مل جائے۔ نوکری بھی کہیں کریں تو خواتین ساتھ ہیں۔ مہربانی فرماکرتمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہم لوگوں کے لیے کچھ رہنمائی فرمائیں کہ ہم لوگ کس طرح دین پر قائم رہتے ہوئے زندگی گزار سکیں؟ میرا تو دماغ کام نہیں کرتا ہے اللہ مجھے معاف کرے لیکن اس طرح تو ہم لوگ اس دنیا میں تو کچھ کر ہی نہیں سکتے ہیں او ریہ کہ جب مرنا ہی ہے تو پھر اتنی کوشش دنیا کے لیے کیوں کریں، یہ ایک سوچ ہے؟ دوسری یہ سوچ ہے کہ بھائی جب کچھ نہیں کریں گے یعنی پڑھائی وغیرہ یا نوکری تو زندگی کی ضروریات کیسے پوری کریں گے؟ بیوی، بچے کی کفالت کیسے کریں گے؟ جب دین دار لوگ دنیاوی تعلیم سے دور رہیں گے تو ہم دیکھتے ہیں کہ دنیاوی طور پر جو لوگ ہم لوگوں کے مسلمانوں کے اجتماعی معاملات چلا رہے ہیں وہ 95فیصد دین سے دور ہی نظر آتے ہیں، یا وہ ماڈرن اسلام کی باتیں کرتے ہیں، جن میں سے اکثر دین دار لوگوں کی نظر میں فاسق و فاجر ہیں، اب یہ لوگ مسلمانوں کے معاملات چلا رہے ہیں۔ کیوں کہ ان کے مطابق یہ مولوی، ملا تو بنیاد پرست اور پچھڑے ہیں، ان لوگوں کو تو پیچھے ہی رکھو ، نہ ان کے پاس آج کے دور کی تعلیم ہے نہ ان میں اعتماد ہے یہ تو بس انتہا پسند ہیں ہر وقت اللہ و رسول کی باتیں کرتے ہیں، دنیا میں ان کا کیا کام ہے۔ مسلمانوں کاحال پورے دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ آپ سب کے سامنے ہے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تمام اعلی جگہوں پر وہ لوگ ہیں جن میں سے 95فیصد کا دین سے کوئی واسطہ نہیں ہے بس وہ نام کے مسلمان ہیں اور دین دار لوگ بے چارے یہ تو بے اختیار سی نوکری کررہے ہیں یا بس مسجد تک یا اپنی جماعت تک ہی ہیں، کسی اچھی جگہ پر کوئی سو میں سے ایک ہی ہے جو بس اپنا دل جلانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتاہے۔ برائے کرم ہماری رہنمائی فرمائیں، تفصیلی جواب عنایت فرماویں۔ والسلام

    جواب نمبر: 15522

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1682=1391/1430/د

     

    آپ کی دلسوز تحریر ایمانی بیداری کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ فکرمندی کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ حدیث میں پیشین گوئی فرمائی گئی ہے کہ اسلام اپنے ابتدائے ظہور میں بھی غریب (اجنبی) تھا اور قیامت کے قریب بھی اجنبی ہوجائے گا، پھر بشارت دی گئی کہ جو لوگ اجنبیت کی حالت میں اسلام کو گلے لگائیں گے وہ بہت بابرکت لوگ ہوں گے۔ دوسری حدیث میں فرمایا گیا کہ: قیامت کے قریب دین پر چلنا ایسا ہوگا جیسا کہ ہاتھ میں انگارہ لینا۔ اور کتاب الفتن کی روایت میں ہے کہ قیامت کے قریب ایسے فتنے لگاتار ظاہر ہوں گے، جن میں بعض لوگ مبتلا ہوکر صبح مومن رہیں گے مگر شام کو کافر ہوجائیں گے، شام کو مومن ہوں گے تو صبح کو کافر ہوجائیں گے۔ مقداد بن اسود کی روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السَّعیْد لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ، نیک بخت وہ شخص ہے جو ان فتنوں سے بچارہا، یعنی بالکل کنارہ کش رہا اور جو شخص اس میں پڑگیا، پھر بھی ایمان اور عمل صالح پر جما رہا وہ بھی نیک بخت ہے۔ ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ یہ فتنے علامات قیامت میں سے ہیں، ان سے بچنے کے لیے ایمان پراستقامت اوراعمال صالحہ پر مداومت کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا، خواہ پہلی سوچ کے مطابق بالکل یکسوئی کی راہ اختیار کرے یا دوسری سوچ کے مطابق اس میں پڑکر اپنے دین کو بچانے کی کوشش کرے، ہرشخص کے حالات ایمان وعمل کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ تقویٰ کیا ہے؟ تو ابی بن کعب نے کہا کہ امیرالموٴمنین آپ کا گذر کسی جھاڑدار جگہ سے ہوا ہے امیرالموٴمنین نے کہا بارہا ہوا ہے، حضرت ابی نے فرمایا جس طرح جھاڑدار جگہ سے گذرتے ہوئے دامن کو بچاتے ہوئے دبتے دباتے نکلتے ہیں، اسی طرح زندگی میں دنیا کے کانٹوں سے بچٹے بچاتے دامن کو سنبھالتے گذرجانے کا نام تقویٰ ہے۔ آج بھی اسی طرح بچتے بچاتے دین پر عمل کرنا کافی ہوگا، کم ازکم گناہ کبیرہ سے بچنے کا اہتمام کرتے ہوئے فرائض وواجبات کی پابندی کی جائے، نامحرم لڑکیوں اور عورتوں سے اختلاط، بے تکلفانہ بات چیت سے پرہیز کیا جائے، بوقت ضرورت کوئی ضروری بات کرنی ہو تو نظریں نیچی کرکے کریں، جب کبھی کوتاہی ہوجائے توبہ واستغفار کرتے رہیں، استقامت علی الدین اور خاتمہ علی الایمان کی دعا کرتے رہیں۔ باقی اس طرح کے خیالات کہ لوگ کیا سوچیں گے یا سوچتے ہیں یا کہتے ہیں اور کہیں گے یہ سب شیطانی وساوس ہیں، آپ ایک حق اور سچے دین پر عمل پیرا ہیں، احساس کمتری دل سے نکال دیجیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند