• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 9303

    عنوان:

    کیا سرکا بال عام حالت میں مونڈانا جائز ہے؟ مسلم شریف میں حدیث ہے کہ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو سر کا بال منڈائے اور بخاری شریف کی حدیث نمبر 2393 سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سر کا بال منڈانا ان لوگوں کی نشانی ہوگی جو مشرق کی طرف سے نکلیں گے اور قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کی حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے۔

    سوال:

    کیا سرکا بال عام حالت میں مونڈانا جائز ہے؟ مسلم شریف میں حدیث ہے کہ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو سر کا بال منڈائے اور بخاری شریف کی حدیث نمبر 2393 سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سر کا بال منڈانا ان لوگوں کی نشانی ہوگی جو مشرق کی طرف سے نکلیں گے اور قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کی حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے۔

    جواب نمبر: 9303

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1670=1365/ ل

     

    عام حالت میں سر کے بال منڈانا جائز بلکہ مسنون ہے: وفي الروضة للزندویستی أن السنة في شعر الرأس أما الفرق أو الحلق وذکر الطحاوي: أن الحلق سنة (شامي: ۹/۵۸۴، ط زکریا دیوبند) اور مسلم شریف کی روایت کا مصداق وہ ہے جو مصیبت کے وقت سرمنڈائے کیونکہ یہ جاہلیت کی رسمیں ہیں، قال النووی: الحالقة : التي تحلق شعرھا عند المصیبة (حاشیة مسلم: ۱/۷۰) اور بخاری شریف کی حدیث کے مصادق خوارج ہیں ان کی ایک علامت یہ بھی ہوگی وہ سر منڈائے ہوئے ہوں گے، اس حدیث سے غیر خوارج کے لیے یہ حکم نکالنا کہ سرمنڈانا ناجائز ہے،درست نہیں۔ قال الکرماني: فیہ إشکال وھو أنہ یلزم من وجود العلامة وجود ذي العلامة فیلزم أن کل محلوق الرأس فہو من الخوارج والأمر بخلاف ذلک (حاشیة بخاری: ۲/۱۱۲۸)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند