• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 9255

    عنوان:

    داڑھی رکھنے کا حکم قرآن میں نہیں ہے اس لیے داڑھی رکھنا ضروری نہیں۔داڑھی رکھنے سے تو عشق رسول ثابت ہے، نہ رکھنا گناہ نہیں۔ دین میں داڑھی ہے داڑھی میں دین نہیں۔ پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کرنا چاہیے؟ اس کا کیا جواب دیتے ہیں علمائے کرام؟ (۲) قرآن مکمل کتاب ہے اس لیے اس کو سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت نہیں ہوتی؟ (۳) مردوں کے لیے جماعت سے نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ ان سب سوالوں کا جواب حدیث کی روشنی میں بیان فرماویں۔

    سوال:

    داڑھی رکھنے کا حکم قرآن میں نہیں ہے اس لیے داڑھی رکھنا ضروری نہیں۔داڑھی رکھنے سے تو عشق رسول ثابت ہے، نہ رکھنا گناہ نہیں۔ دین میں داڑھی ہے داڑھی میں دین نہیں۔ پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کرنا چاہیے؟ اس کا کیا جواب دیتے ہیں علمائے کرام؟ (۲) قرآن مکمل کتاب ہے اس لیے اس کو سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت نہیں ہوتی؟ (۳) مردوں کے لیے جماعت سے نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ ان سب سوالوں کا جواب حدیث کی روشنی میں بیان فرماویں۔

    جواب نمبر: 9255

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2302=1905/ب

     

    قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خالفوا المشرکین وفروا اللحی واحفوا لاشوارب (بخاری: ۲/۸۷۵) جزوا الشوارب ارخوا اللحی وخالفوا المجوس (مسلم:۱/۳۳۴) یہ صحیح حدیثیں بتلارہی ہیں کہ بارگاہ خداوندی کے خاص مقربین اور ندیموں اور انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کے یونیفارم میں سے مونچھوں کا کتروانا ڈاڑھی کا نہ منڈانا ہے، نیز ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے، اس زمانہ میں مشرکین مجوسی ڈاڑھی منڈاتے ہیں اور موچھیں بڑھاتے ہیں اور یہ امر ان کے مخصوص یونیفارم میں تھا۔ نیز حدیثوں میں امر کا صیغہ استعمال کیا ہے، جس کی دلالت وجوب پر ہوتی ہے، اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ سنت کا اطلاق کبھی واجب پر بھی ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں اس کی مراد ہوتی ہے، اثبات السنة نہ کہ اصطلاحی معنی مراد ہوتی ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام ڈاڑھی کٹوانے والے کو فاسق گردانتے ہیں اور اس کے پیچھے نماز کی اقتداء مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں۔

    (۲) قرآن مکمل کتاب میں جو باتیں ہیں ان کو سمجھنا ہرآدمی کا کام نہیں ہے، ورنہ پھر خود عرب کے اندر نبی اس قرآن کی وضاحت کے واسطے کیوں بھیجا گیا، چناں چہ ارشاد باری ہے: وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ (الآیة)

    (۳) مردوں کے لیے عذر شرعی کے بغیر جماعت کے ترک کو حدیث کے اندر نفاق سے تعبیر کیا گیا ہے، اسی لیے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا فقہاء سنت موٴکدہ بتاتے ہیں، چنانچہ حدیث نبوی ہے۔ الجماعة من سنن الہدی لا یتخلف عنہا إلا منافق۔ (ھدایة:۱/۱۲۱)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند