• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 49821

    عنوان: پیلے جوتے پہننے کے متعلق

    سوال: مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ پیلے جوتے پہننے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں حضرت علی فرماتے ہیں کہ جو پیلے جوتے پہنے گا اس کی فکروں میں کمی ہوگی(کشف الخفا جلد ۲ الحدیث:۲۵۹۵،از شیخ محمد بن اسماعیل عجلونی متوفیٰ: ۱۱۶۲ھ) اگر کوئی شخص صحابی کے اس قول پر عمل کی نیت سے پیلا جوتا پہنے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے جب کہ وہ اسے سنت نہیں سمجھتا؟

    جواب نمبر: 49821

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 00-00/M=1/1435-U مذکورہ روایت موضوع ہے، کشف الخفاء ہی میں اس روایت کو ابن ابی حاتم کے حوالہ سے کذب اور موضوع کی بات درج ہے،نیز لسان المیزان اور میزان الاعتدال میں اسی مضمون کی دوسری روایت کے متعلق ”لاشئ“ کا حکم لگایا گیا ہے، حوالہ کی عبارت درج ذیل ہے: رواہ العقیلي والطبراني والخطیب عن ابن عباس موقوفًا لکن بلفظ لم یزل في سرور ما دام لابسھا بدل "قل ھمہ"، وقال ابن أبي حاتم: سألت أبي عنہ فقال: کذب موضوع. وعزاہ في الکشاف لعلي باللفظ الأول، وکأن المأخذ قولہ تعالی ”صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَوْنُھَا تَسُرُّ النَّاظِرِینَ“ (کشف الخفاء، ۲/ حدیث ۲۵۹۶) ابن العذراء عن ابن جریج لہ حدیث في النعل الأصفر ”لاشئ“ (میزان الاعتدال، ۴/۵۹۴) جب روایت ثابت نہیں تو اسے ثابت سمجھ کر عمل کرنا درست نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند