• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 37071

    عنوان: كوئی اگر ختنہ نہ كرائے تو كیا مسلمانی میں كوئی فرق ہوگا؟

    سوال: میری عمر تقریباً 25/ سال ہے۔ بچپن میں میرے والدین نے درد کی وجہ سے میرا ختنہ نہیں کرائے۔ اب میں تو سوچتاہوں کہ یہ تو ضروری ہے تو میں بہت پریشان ہوجاتاہوں کہ پتا نہیں میں ٹھیک سے مسلمان ہوں یا نہیں؟ الحمد للہ، میں حافظ بھی ہوں اورنماز بھی پابندی سے پڑھتاہوں۔ میں اس عمر میں تکلیف برداشت نہیں کرسکتاہوں اورنہ مجھ میں ختنہ کروانے کی ہمت ہے۔براہ کرم، اس معاملہ میری مدد کریں اور بتائیں کہ میرے مسلمان ہونے پر اس سے کوئی فرق پڑے گا یا نہیں؟ اور میں جو بھی عبادت کرتاہوں وہ قابل قبول ہے یا نہیں ؟

    جواب نمبر: 37071

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 289=228-3/1433 ختنہ کرانا سنت ہے، یہ مسلم کی پہچان ہے، افسوس ہے کہ ۲۵/ سال کی عمر ہوگئی اور اب تک آپ نے ختنہ نہیں کرائی، ختنہ بالغ ہونے سے پہلے پہلے کرالینی چاہیے تھی، اب بالغ ہونے کے بعد کسی کے سامنے ستر کا کھولنا بھی حرام ہے۔ اور اب آپ لکھتے ہیں کہ مجھ میں ختنہ کرانے کی ہمت نہیں، آپ اس عمر میں ختنہ کرانے کی تکلیف بھی برداشت نہیں کرسکتے، لہٰذا ایسے ہی غیرمختون رہنے دیجیے، آپ عقائدواعمال کے اعتبار سے پکے اور صحیح ہیں تو آپ مسلمان ہیں، آپ کی مسلمانی میں کوئی فرق نہیں آئے گا، البتہ ترک سنت کا گناہ ملے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند