• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 145901

    عنوان: ڈاڑھی ایک مشت کے بہ قدر سنت ہے

    سوال: ہم نے مسجد کی امامت کے لیے مفتی صاحب کی خدمت لی ہے۔ شریف اور سادہ نوجوان آدمی ہیں، جماعت میں سال لگا چکے ہیں اور بزرگوں سے تعلق بھی ہے۔ (۱) لیکن اکثر ان کی ڈاڑھی کی لمبائی میں شبہ ہوتا ہے خاص طور پر دائیں اور بائیں طرف سے، سائڈ سے الگ الگ بال مشکل سے ہی ایک بالشت ہوں گئے، ایک بالشت کا مطلب کیا ہے؟ نیچے کی طرف سے ایک بالشت یا ہر سائڈ سے الگ الگ ایک بالشت؟ (۲) امام صاحب رکوع میں کہنیوں کو سیدھا نہیں رکھتے، اس کی وجہ سے رکوع میں کمر بھی مکمل سیدھی نہیں ہوتی، پوچھنے پر کمر درد کا عذر کیا ہے، لیکن ماشاء اللہ ۲۸/ سالہ جوان اور صحت مند آدمی ہیں، اور کوئی مستقل عذر نہیں، کیا امام کو شبہ والی چیزوں سے دور نہیں رکھنا چاہئے؟

    جواب نمبر: 145901

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 132-103/D=2/1438

    (۱) ڈاڑھی ایک مشت کے بہ قدر سنت ہے، ایک بالشت کے بہ قدر نہیں، اور جس طرح سامنے سے ایک مشت کے بہ قدر سنت ہے، اسی طرح دائیں بائیں جانب سے بھی۔ پھر اگر غالب گمان ہے کہ امام صاحب ڈاڑھی کاٹتے ہیں، تو انہیں متوجہ کردیں ورنہ بلا وجہ شبہ نہیں کرنا چاہئے۔

    (۲) رکوع میں کمر کو برابر رکھنا سنت ہے، بلاعذر ترک نہیں کرنا چاہئے، جب امام صاحب کہہ رہے ہیں کہ انہیں عذر ہے، تو ان کی بات کا اعتبار کرنا چاہئے، خواہ مخواہ شبہ نہیں کرنا چاہئے اگر امام صاحب بلاعذر ایسا کرتے ہیں تو وہ گنہ گار ہوں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند