• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 12494

    عنوان:

    میں نے داڑھی کے بارے میں سارے سوال و جواب دیکھے پر کس حد تک کے بال داڑھی کہلاتے ہیں یہ صاف سمجھ میں نہیں آیا۔ (۱)شرعی حد تک داڑھی ایک مٹھی ہوتی ہے تو کیا ایک مٹھی میں جو بال ہیں اس کو چھوڑ کر گال او رگلے پر بال صاف کیا جائے تو کیا وہ داڑھی کہلائے گی؟ (۲)اگر سر کے بال بنائیں تو کان کے پاس سے داڑھی کہاں شروع ہوتی ہے (کان کے اوپر کی، بیچ کی، نیچے کی لائن سے)؟ (۳)گال پر داڑھی کہاں سے شروع ہوتی ہے بالکل آنکھ کے نیچے سے یا گال پر نیچے کے دانت سے؟ (۴)گلے پر داڑھی کہاں تک جاتی ہے۔ نیچے کے جبڑے تک ہی اور گلے پر کچھ نہیں یا پھر صاف گلے کی حد بتائیں؟ (۵)تھڈی کے کتنے نیچے تک داڑھی کہلاتی ہے۔ گلے کی بیچ گول ہڈی تک یا پھر تھڈی کے نیچے کی حد بتائیں۔ (۶)اگر داڑھی بڑھی ہونے پر جو اس کا صحیح خیال نہ رکھ سکے جیسے کہ اسے صاف رکھنا، کنگھا کرنا تو کیا اسے داڑھی چھانٹنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہوسکے تو مشکل اردو مت استعمال کریں۔ اگر داڑھی کے بارے میں کوئی صحیح کتاب یا بیان ہے تو ضرور بتائیں۔

    سوال:

    میں نے داڑھی کے بارے میں سارے سوال و جواب دیکھے پر کس حد تک کے بال داڑھی کہلاتے ہیں یہ صاف سمجھ میں نہیں آیا۔ (۱)شرعی حد تک داڑھی ایک مٹھی ہوتی ہے تو کیا ایک مٹھی میں جو بال ہیں اس کو چھوڑ کر گال او رگلے پر بال صاف کیا جائے تو کیا وہ داڑھی کہلائے گی؟ (۲)اگر سر کے بال بنائیں تو کان کے پاس سے داڑھی کہاں شروع ہوتی ہے (کان کے اوپر کی، بیچ کی، نیچے کی لائن سے)؟ (۳)گال پر داڑھی کہاں سے شروع ہوتی ہے بالکل آنکھ کے نیچے سے یا گال پر نیچے کے دانت سے؟ (۴)گلے پر داڑھی کہاں تک جاتی ہے۔ نیچے کے جبڑے تک ہی اور گلے پر کچھ نہیں یا پھر صاف گلے کی حد بتائیں؟ (۵)تھڈی کے کتنے نیچے تک داڑھی کہلاتی ہے۔ گلے کی بیچ گول ہڈی تک یا پھر تھڈی کے نیچے کی حد بتائیں۔ (۶)اگر داڑھی بڑھی ہونے پر جو اس کا صحیح خیال نہ رکھ سکے جیسے کہ اسے صاف رکھنا، کنگھا کرنا تو کیا اسے داڑھی چھانٹنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہوسکے تو مشکل اردو مت استعمال کریں۔ اگر داڑھی کے بارے میں کوئی صحیح کتاب یا بیان ہے تو ضرور بتائیں۔

    جواب نمبر: 12494

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1483=1177/ھ

     

     جی ہاں! ایک مشت ڈاڑھی کے علاوہ گال اور گلے کے بالوں کو صاف کراسکتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ ڈاڑھی کے حکم میں نہیں، عربی میں لحی اس ہڈی کو کہتے ہیں جس پر دانت ہوتے ہیں اور چونکہ ڈاڑھی اس ہڈی پر پیدا ہوتی ہے اس لیے ڈاڑھی کو لحیہ کہتے ہیں، پس اُس ہڈی پر جو بال ہوں ان کو کٹوانا یا منڈانا جائز نہیں، ایک قبضے کے بعد کٹوانا درست ہے: واللحی: منبت اللحیة من الإنسان وغیرہ واللحیان: حائطا الفم وھما العظمان الذان فیھما الأسنان من داخل الفم من کل ذي لحی (لسان العرب: ۱۵/۲۴۳، بحوالہ فتاویٰ محمودیہ: ۱۹/۳۹۶)

    (۲) کان کے قریب جو ہڈی ہے اس سے اوپرسر کا حصہ ہے اور نیچے ڈاڑھی کا، لہٰذا اوپر کا منڈوانا درست ہے اور نیچے کا درست نہیں۔

    (۳) اوپر کے جبڑے کے ختم ہونے تک ڈاڑھی کی حد ہے لہٰذا اُس سے نیچے منڈوانا درست نہیں۔

    (۴-۵) ڈاڑھی کی حد نیچے کے جبڑے کے ختم ہونے تک ہے، اس سے آگے حلق کا حصہ ہے، حلق کے بالوں کو مونڈوا سکتے ہیں، لیکن مونڈنا نہیں چاہیے، البتہ امام ابویوسف رحمہ اللہ مونڈوانے کی اجازت دیتے ہیں: ولا یحلق شعر حلقہ وعن أبي یوسف لا بأس بہ۔

    (۶) جی نہیں! اگر آپ کی ڈاڑھی ایک مشت سے کم ہو تو آپ کو ڈاڑھی چھانٹنے کی اجازت نہیں: ویحرم علی الرجل قطع لحیتہ (شامي: ۹/۹۸۳، زکریا)

    البتہ جس طرح آپ اور ضروری کاموں سے فراغت حاصل کرتے ہیں اسی طرح اس کو ضروری سمجھ لیں تو ان شاء اللہ آسان ہوجائے گا۔

    اس سلسلے میں آپ ڈاڑھی کا وجوب، ڈاڑھی کا فلسفہ اور ڈاڑھی کی قدر وقیمت وغیرہ کتابیں مطالعہ کرسکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند