• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 817

    عنوان:

    ہمارے علاقے میں ایک دکان دار نقد خریدار کو عام قیمت پر مال فروخت کرتا ہے اور ادھار خریدار کو زیادہ قیمت پر مال فروخت کرتا ہے، کیا یہ زیادہ قیمت جو دکان دار وصول کرتا ہے یہ حرام و سود ہے؟

    سوال:

    ہمارے علاقے میں ایک دکان دار نقد خریدار کو عام قیمت پر مال فروخت کرتا ہے اور ادھار خریدار کو زیادہ قیمت پر مال فروخت کرتا ہے، کیا یہ زیادہ قیمت جو دکان دار وصول کرتا ہے یہ حرام و سود ہے؟

    جواب نمبر: 817

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 297/ل=297/ل)

     

    ادھار میں نقد سے زیادہ پر فروخت کرنا جائز ہے بشرطیکہ مجلس عقد میں ادھار ہو اور مدت ادائے قیمت وغیرہ کی تعیین کردی جائے، ہدایہ میں ہے: ألا یری أنہ یزاد في الثمن لأجل الأجل (ھدایة: 74/3) و کفایة المفتي: 52/8) ط، دار الاشاعت کراچی) اس لیے ادھار کی صورت میں جو زیادہ قیمت دکان دار وصول کرتا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند