• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 67355

    عنوان: بینک سے فینانس پر گاڈی خریدنا کیسا ہے ؟

    سوال: مثال کے طور پر میرے پاس صرف 5 لاکھ روپیئے ہیں اور میں کاروبار کرنے کے لیے نئی کار خریدنا چاہتا ہوں جس کی قیمت 6 لاکھ 50 ہزار ہے ، لیکن اگر میں اسکو 5 لاکھ دیکر گاڑی لیتا ہوں اور 1لاکھ 50 ہزار کا فینانس 3 سال کے لیے کراتا ہوں تو مجھے ماہانہ قسطوں میں مکمل تقریباً 2 لاکھ روپیئے ادا کرنا پڑیگا۔تو کیا یہ جائز ہے ؟اس کے علاوہ مجھے کہیں سے بغیر سود کا قرض بھی نہیں مل رہا ہے ۔ گذارش ہے کہ صحیح رہبری فرمائیں تو عین نوازش ہوگی۔ خیرا

    جواب نمبر: 67355

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1126-1138/N=11-1437 صورت مسئولہ میں نئی کار خریدنے کے لیے بینک سے فائناس پر ڈیڑھ لاکھ روپے لینا اور ۳/ سال کی مدت میں ماہانہ قسطوں میں اضافہ کے ساتھ تقریباً دو لاکھ روپے ادا کرنا سودی قرض کی شکل ہے اور مذہب اسلام میں جس طرح سود لینا حرام ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے اور سود دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے (مسلم شریف ۲: ۲۷، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) ؛ اس لیے آپ کاروبار کے لیے نئی کار کے بجائے کوئی سیکنڈ ہینڈ قابل استعمال ومناسب کار خرید لیں، اس سے بھی انشاء اللہ کاروبار کی ضرورت پوری ہوجائے گی، نہیں تو آدمی کرایہ کی گاڑیوں سے بھی کاروبار کی ضروریات پوری کرسکتا ہے اگرچہ اس میں کچھ زحمت ہوتی ہے۔ اور اگر آدمی بینک یا فائنانس کمپنی سے سودی قرض کا معاملہ نہ کرے؛ بلکہ مرابحہ کا معاملہ کرے ، یعنی گاڑی خریدنے والا بینک سے یہ کہے کہ آپ شوروم یا کمپنی سے اپنے لیے گاڑی خریدلیں اور پھر آپ مجھ سے لون کی صورت میں جو مزید لینا چاہتے ہیں اسے نفع کی حیثیت سے اصل قیمت کے ساتھ ملا کرمیرے ہاتھ مرابحہ کے طور پر فروخت کردیں، یا بینک: خود گاڑی خریدار کو اپنے لیے شوروم سے گاڑی خریدنے کا وکیل بنادے، پھر یہ خریدار بینک کے لیے گاڑی خرید کر لے آئے اور گاڑی بینک کے حوالہ کردے، اس کے بعد بینک لون کی صورت میں جو مزید رقم لینا چاہتا تھا، وہ نفع کی حیثیت سے اصل قیمت کے ساتھ ملاکر اس کے ہاتھ مرابحہ کے طور پر فروخت کردے تو یہ معاملہ اس شرط کے ساتھ جائز ودرست ہوگا کہ گاڑی خریدنے والے کو اپنی مالی حیثیت کے لحاظ سے اس بات کا یقین یا غالب گمان ہو کہ وہ ہر قسط اس کے مقررہ وقت پر ادا کردے گا، کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرے گا کہ اس پر سود دینا پڑے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند