• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 64501

    عنوان: شرعی اعتبار سے ایجاب وقبول سے بیع تام ومکمل ہوجاتی ہے

    سوال: عمر نے عادل کو مثلا ۵لاکھ میں جائداد فروخت کی اور عادل نے عمر کو بطور بیعانہ ۱یک لاکھ نقد دیا اور باقی ثمن کی ادائگی ادھار معینہ مدت تک طے پائی اب عادل مذکورہ جائداد کا سودا حامد سے نقد چھ لاکھ میں کرتا ہے تاکہ چار لاکھ عمر کو ادا کردے اور بقیہ ۲لاکھ اسکا نفع ہو۔ سوال یہ ہے کہ عادل کا یہ سوداشرعا جائز ہے یا نہیں ؟

    جواب نمبر: 64501

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 631-686/N=7/1437 شرعی اعتبار سے ایجاب وقبول سے بیع تام ومکمل ہوجاتی ہے ، بیع مکمل ہونے کے لیے کل یا بعض ثمن کی ادائیگی یا خریدار کے نام زمین کی رجسٹری ہوجانا شرعاً ضروری نہیں ؛ اس لیے صورت مسئولہ میں اگر عمر اور عادل کے درمیان ۵/ لاکھ روپے میں جائداد کی خرید وفروخت کا ایجاب وقبول ہوچکا ہے ،ایسا نہیں ہے کہ دونوں کے درمیان ابھی خرید وفروخت کا صرف وعدہ ہوا ہو تو عمر عادل سے خریدی ہوئی جائداد حامد یا کسی اور کے ہاتھ ،نفع کے ساتھ چھ لاکھ روپے میں فروخت کرسکتا ہے، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں،البتہ اگر جائداد ابھی بائع کے قبضہ میں ہے یا بائع کی اجازت کے بغیر اس پر قبضہ کرلیا گیا ہے تو اس صورت میں بائع کو مکمل ثمن وصول کرنے یا بیع باطل کرنے کا حق واختیار ہوگا، وصح بیع عقار لا یخشی ہلاکہ قبل قبضہ من بائعہ الخ(در مختار مع شامی ۷: ۳۶۹،مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)،وعبر بالصحة دون النفاذ واللزوم ؛لأنھما موقوفان علی نقد الثمن أو رضا البائع وإلا فللبائع إبطالہ أي:إبطال بیع المشتري الخ(شامی،حوالہ بالا)،عن عبد اللہ بن عمرو أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:” لا یحل سلف وبیع ولا شرطان في بیع ولا ربح ما لم یضمن ولا بیع ما لیس عندک“ أخرجہ الترمذي في باب کراھیة بیع ما لیس عندہ، وقال:ھذا حدیث حسن صحیح، فنھی فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن ربح ما لم یضمن، والبیع قبل القبض یتضمنہ ؛لأن المبیع لا یدخل في ضمان المشتري حتی یقبضہ، فإن باعہ قبل ذلک بالربح کان ذلک ربحا لما لم یتضمنہ، وھذہ العلة تعم الطعام وغیرہ۔ وبعین ھذہ الأدلة یستدل أبو حنیفة وأبو یوسف رحمھما اللہ تعالی غیر أنھما یستثنیان العقار من عموم النھي ؛لأن علة النھي منتفیة فیہ الخ( فقہ البیوع ، ص ۳۹۶، ۳۹۷) دیکھیں ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند